بیجنگ : چائنا میڈیا گروپ نے جرمنی کی نیشنل اکیڈمی آف سائنس اینڈ انجینئرنگ کے رکن اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے غیر ملکی رکن اوتھین ہرزوگ کا خصوصی انٹرویو کیا۔ انہیں 2025 کا چین کا بین الاقوامی سائنسی و تکنیکی تعاون ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ہرزوگ نے کہا کہ “یہ میری زندگی کی نہایت خوبصورت یادوں میں سے ایک ہے۔”ہرزوگ گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے چین میں کام کر رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت، شہری منصوبہ بندی اور سائنسی تحقیق کے مختلف منصوبوں میں گہرائی سے شریک رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے بڑی تعداد میں دنیا کے بہترین محققین اور سائنس دانوں کو یکجا کیا ہے، جو مستقبل میں نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنیں گے۔ چین کی جدیدیت کا سفر ایک واضح حکمتِ عملی، مؤثر منصوبہ بندی اور مضبوط عمل درآمد کے نظام پر استوار ہے، اور یہی خصوصیت چین کو منفرد بناتی ہے۔انہوں نے چینی معاشرے کے بارے میں اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چینی عوام نہایت شائستہ اور بااخلاق ہیں۔ روزمرہ زندگی میں لوگ ایک دوسرے سے احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، جبکہ جرمنی میں گفتگو کا انداز نسبتاً زیادہ براہِ راست ہوتا ہے۔ ان کے مطابق چین میں نرم اور خوشگوار طرزِ گفتگو بڑے شہروں اور وسیع آبادی والے معاشروں میں ہم آہنگی اور بہتر سماجی روابط کو فروغ دیتا ہے۔ہرزوگ نے کہا کہ چین کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باصلاحیت افراد کی ایک بہت بڑی افرادی قوت موجود ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ خواہ وہ بنیادی تحقیق میں خدمات انجام دیں یا صنعتی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کریں، مختلف شعبوں میں اعلیٰ درجے کی افرادی قوت کی موجودگی چین کی ایک بڑی طاقت ہے۔ ان کے بقول، چین میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل محققین کا یہ مضبوط نظام مستقبل میں مزید اہم تبدیلیوں کی بنیاد بنے گا۔