اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت میں تعلیمی معاملات پر جاری احتجاج کے تناظر میں کاکروچ جنتا پارٹی نے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اپنے احتجاجی سلسلے کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔
پارٹی نے کارکنوں اور مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ پُرامن انداز میں احتجاج ختم کرکے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔پارٹی کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کے حالیہ فیصلے کو مثبت پیش رفت سمجھتے ہوئے احتجاج واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق طلبا نے اپنے مطالبات کے حق میں جمہوری اور پُرامن انداز اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ان کی جدوجہد کامیاب ثابت ہوئی۔ترجمان نے یاد دلایا کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر پارٹی مسلسل وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دباؤ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھرمیندر پردھان کا استعفا منظور کیا۔پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ طلبا کی آواز رنگ لے آئی اور وزیرِ تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ بیان میں بتایا گیا کہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر 5 جون سے جاری دھرنے کا بنیادی مقصد امتحانی نظام میں شفافیت اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تھا۔اس احتجاج کو مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی شخصیات اور فنکاروں کی بھی حمایت حاصل رہی، جبکہ بڑی تعداد میں نوجوانوں نے تعلیمی اصلاحات کے حق میں مظاہروں میں شرکت کی۔
کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے طلبا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں نے اپنے حقوق کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ان کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب نوجوانوں کی آواز دبانا آسان نہیں ہوگا۔راہول گاندھی نے بھی اپنے ردِعمل میں طلبا کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل ہمیشہ آگے بڑھتا ہے اور نوجوانوں کی جدوجہد تبدیلی کی علامت ہے۔ادھر عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال نے بھی طلبا اور کاکروچ جنتا پارٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس پیش رفت کو جمہوری عمل کی کامیابی قرار دیا۔
پی این پی