گوئی یانگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے گوئی ژو میں جاری چین-آسیان تعلیمی تعاون ہفتہ 2026کے دوران چھنگ دو میں پاکستان کے قونصل جنرل تنویر احمد بھٹی نے کہا کہ مہارت کا مضبوط تعاون چین اور پاکستان کے درمیان معاشی، تجارتی اور عوامی روابط کے پل کو مزید مستحکم کرے گا۔جون 2025 میں چین میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے والے تنویر احمد بھٹی نے کہا کہ تعلیم اور مہارت کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی سٹریٹجک شراکت داری کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جبکہ ثقافت اور مہارت کے تبادلے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موثر ذریعہ ہیں۔انہوں نے چین اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت کی تربیت کے لئے چین کے اعلیٰ معیار کے تعلیمی وسائل سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت چین کی جنوب مغربی ممتاز جامعات میں 2 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ مختلف ڈگری پروگراموں میں زیر تعلیم ہیں۔تنویر احمد بھٹی نے کہا کہ پاکستان نوجوان ٹیلنٹ سے مالا مال ملک ہے، جہاں تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان کو چین کی ممتاز جامعات اور تحقیقی اداروں کی معاونت درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب یہی تربیت یافتہ نوجوان پاکستان کی صنعتی ترقی میں کردار ادا کریں گے تو وہ ملکی اقتصادی ترقی کو بھی نئی رفتار دیں گے۔پاکستانی قونصل جنرل نے شِنہوا کو بتایا کہ پاکستان اگست میں گوئی ژو میں ہونے والی بگ ڈیٹا ایکسپو میں شرکت کے لئے تقریباً 20 رکنی اعلیٰ سطح کا وفد بھیجے گا، جس میں وفاقی و صوبائی وزراء اور سیکرٹریز شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد قونصلر دائرہ اختیار کے اندر مختلف علاقوں کے دوروں میں انہیں معلوم ہوا کہ چین کے جنوب مغربی صوبوں میں مقامی صلاحیتیں پاکستان کی ترقیاتی ضروریات کو بہترین انداز میں پورا کر سکتی ہیں۔ چین کے پہلے قومی جامع بگ ڈیٹا پائلٹ زون کے طور پر گوئی ژو مضبوط بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل صنعتوں کی بدولت بگ ڈیٹا کی ترقی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔تنویر نے ترجیحی تعاون کے شعبوں کی نشاندہی کی ہے اور پاکستانی کمپنیوں، ماہرین اور اداروں کو چین کے جنوب مغربی صوبوں میں ہم منصبوں سے جوڑنے کے لئے ہدف پر مبنی کاروباری روابط کی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 4 شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جن میں ڈیجیٹل معیشت اور بگ ڈیٹا، جدید زرعی ٹیکنالوجی، جدید اور ذہین مینوفیکچرنگ اور ثقافت و سیاحت کا انتظام شامل ہیں۔تنویرنے کہا، “گوئی ژو کا مضبوط ڈیجیٹل صنعتی نظام پاکستان کی جاری ڈیجیٹل تبدیلی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور ملکی ٹیکنالوجی ماہرین کی نئی افرادی قوت تیار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ جامعات اور تحقیقی ادارے چین اور پاکستان کے درمیان پائیدار تعاون کی بنیاد ہیں۔ اگرچہ کاروبار اور تجارت قلیل مدتی اقتصادی ترقی کو فروغ دیتے ہیں، تاہم تعلیم اور مہارت کے تبادلے طویل المدتی سٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان زرعی ماہرین کی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں۔ 2025 میں پاکستانی زرعی ماہرین کے 2 وفود نے صوبہ سیچھوان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فصلوں کی افزائش، درست زرعی کاشتکاری اور جدید زرعی تکنیکوں کی تربیت حاصل کی۔تربیت مکمل کرنے کے بعد ان ماہرین نے چینی زرعی اداروں کے ساتھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے اور بعد ازاں پاکستان واپس جا کر جدید چینی زرعی ٹیکنالوجی کو عملی طور پر اپنانا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد میں کاروباری اداروں کے درمیان زرعی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں سمارٹ زراعت کے شعبے میں پاکستانی اور چینی کاروباری شخصیات کے درمیان تقریباً 150 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے۔قونصل خانے کی جانب سے اب چین کےجنوب مغربی صوبوں میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں تعاون کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ تنویر احمد بھٹی نے پاکستانی طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چین کی جنوب مغربی جامعات میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید زراعت، انجینئرنگ اور بین الاقوامی تجارت جیسے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔رواں سال چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر قونصل خانہ چین کے جنوب مغربی صوبوں اور پاکستان کے درمیان مہارت کے تبادلے کے لئے ایک مربوط پلیٹ فارم قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت درکار افرادی قوت، پاکستان کی صنعتی ضروریات اور چین کے تعلیمی وسائل کو باہم مربوط کر کے موثر اور درست افرادی صلاحیتوں کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔تنویر نے مزید کہا کہ “ہم چین کے جنوب مغربی صوبوں میں دستیاب سکالرشپ کے مواقع کو فروغ دیں گے اور مزید پاکستانی طلبہ کو چین کی عالمی معیار کی جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیں گے تاکہ مستقبل میں پاکستان کی صنعتی ترقی کے لئے باصلاحیت نوجوان افرادی قوت تیار کی جا سکے۔”