امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ وہ ایران کے خلاف حملہ منسوخ کرنے پر راضی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور دیگر مشرق وسطی کے ممالک نے ان سے درخواست کی ہے کہ حملہ مؤخر کیا جائے کیونکہ معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے جس میں آبنائے ہرمز کا فوری اور مکمل کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس درخواست کی بنیاد پر وہ حملے کو منسوخ کرنے پر راضی ہیں بشرطیکہ معاہدہ جلد طے ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بھی اس معاملے پر ان کے ساتھ ہے۔ دوسری جانب ایران کی طرف سے 2 اگست کو ایران کے فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران نے حملہ روکنے کی درخواست کی ہے ،” ایک نیا جھوٹ ” ہے۔ امریکہ کے مطابق یکم اگست کو سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے فون پر بات کی جس میں ایران کے خلاف نئی بڑی کارروائی کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور امریکہ سے ایران پر حملہ نہ کرنے کی درخواست کی۔ قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، پاکستان اور دیگر ممالک نے بھی امریکہ سے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرے اور تصادم کو نہ بڑھائے ۔ ایران کے مطابق مقامی وقت کے مطابق یکم اگست کی رات، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے الگ الگ فون پر بات کی، اور علاقائی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کی متعلقہ کارروائیوں پر رائے کا تبادلہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے میں کہا کہ ایران نے قومی خودمختاری، علاقائی اور ملکی سلامتی کو برقرار رکھنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی کوئی بھی جارحانہ کارروائی “، اور علاقائی ممالک کی ایسی کارروائیوں میں شمولیت یا تعاون پر ایران کی مسلح افواج کی طرف سے مضبوط جواب دیا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری منصوبہ ساز وں پر ہو گی ۔