تقریباً 50ہزار لوگ اسپین میں داخل ،سیوٹا یورپ میں مہاجرین کے بحران کا مرکز بن گیا

حال ہی میں تقریباً 50,000 غیر قانونی تارکین وطن مراکش کی جانب سے اسپین کے علاقے سیوٹا میں داخل ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بہت سے افراد سمندر کے راستے تیر کر یا فلوٹنگ ڈیوائسز استعمال کر کے داخل ہوئے ۔ ان واقعات میں اب تک کم از کم 67 افراد کی اموات ہو چکی ہیں ۔ سیوٹا میں تارکین وطن کے داخلے کا موجودہ بحران حالیہ برسوں میں غیر قانی طور پر سرحد عبور کرنے کے اسپین کے بڑے بحرانوں میں سے ایک ہے ۔ یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ یورپی سرحدی ایجنسی وغیرہ کے ذریعے اسپین کی مدد کرنے کو تیار ہے، تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کا مشترکہ حل نکالا جا سکے۔

اس سال جولائی میں، اسپین کی سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا تھا کہ سیوتا اور میلیلا میں چوں کہ خصوصی سرحدی انتظامی نظام نافذ ہے، اس لیے سمندر کے راستے ان علاقوں میں پہنچنے والے تارکینِ وطن کو فوری طور پر واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔ تاہم، جو افراد زمینی راستے سے سرحدی باڑ عبور کر کے داخل ہوتے ہیں، انہیں فوری طور پر واپس بھیجنے کی اجازت ہے۔اس عدالتی فیصلے کو غلط انداز میں یہ سمجھا گیا کہ “اگر کوئی شخص تیر کر سیوٹا میں داخل ہو جائے تو وہ اسپین میں رہ سکتا ہے اور بالآخر قانونی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔ ” یہ غلط فہمی سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی اور ممکنہ طور پر تارکینِ وطن کی اس بڑی لہر کو متحرک کرنے والے عوامل میں شامل رہی۔

اسپین
Comments (0)
Add Comment