ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں تو ایران بھی خطے کے متعدد اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسی کسی بھی صورتِ حال کے نتیجے میں عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہونے کے ساتھ دنیا کی معیشت کو بھی شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے تیل اور گیس سے متعلق اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اور معاشی بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ممکنہ اہداف میں خطے کی اہم تیل اور گیس تنصیبات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی غوار آئل فیلڈ، جسے دنیا کی سب سے بڑی تیل فیلڈ سمجھا جاتا ہے، ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہے۔ یہاں موجود ذخائر کا تخمینہ 75 سے 83 ارب بیرل کے درمیان بتایا جاتا ہے اور یہ عالمی تیل سپلائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح ابقیق اور خریص کی تنصیبات بھی سعودی عرب کے تیل پراسیسنگ اور برآمدی نظام کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کی زکوم آئل فیلڈ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو دنیا کی دوسری بڑی آف شور آئل فیلڈ ہے۔ اگر اس تنصیب کو نقصان پہنچتا ہے تو امارات کی تیل برآمدات نمایاں طور پر متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ الرویس ریفائنری کو بھی حساس تنصیبات میں شامل کیا گیا ہے، جو خطے کی سب سے بڑی سنگل سائٹ ریفائنری ہے اور روزانہ تقریباً آٹھ لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

قطر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نارتھ فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے، جہاں تقریباً 48 کھرب مکعب میٹر گیس موجود ہے، جو عالمی ثابت شدہ گیس ذخائر کا تقریباً ایک چوتھائی بنتا ہے۔ اسی طرح راس لفان دنیا بھر میں ایل این جی تجارت کا تقریباً 20 فیصد سنبھالتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے باعث عالمی منڈی میں تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی جبکہ قطر کی پیداواری صلاحیت میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی مکمل بحالی میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

فارس کے مطابق کویت کی برگان آئل فیلڈ بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران کویت کی تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیداوار متاثر ہوئی جبکہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 25 ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔

بحرین کی سترا ریفائنری اور المعمیر کی تنصیبات کو بھی حساس قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران سترا ریفائنری پر دو مرتبہ حملے ہوئے تھے، جبکہ بحرین توانائی کے شعبے میں محدود متبادل سہولیات کے باعث خلیجی ممالک میں زیادہ حساس ملک تصور کیا جاتا ہے۔

اسرائیل کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ لیویاتھن اور تمار گیس فیلڈز بھی ایران کے ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔ لیویاتھن اسرائیل کی تقریباً 53 فیصد جبکہ تمار تقریباً 44 فیصد قدرتی گیس کی ضروریات پوری کرتی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ تنازع کے دوران اسرائیل نے لیویاتھن اور کاریش گیس فیلڈز کی سرگرمیاں تقریباً 30 سے 40 دن کے لیے معطل کر دی تھیں، جس کے نتیجے میں اندازاً ڈیڑھ ارب شیکل، یعنی تقریباً 40 کروڑ ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ تمار گیس فیلڈ کو اسرائیل کی توانائی کی سب سے اہم تنصیب قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ ملک کی مقامی گیس ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے۔

پی این پی