اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یورپ میں تعینات امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ

محدود فوجی وسائل کے باعث اگر مزید بحری مدد فراہم نہ کی گئی تو انہیں اسرائیل کے بجائے امریکا کے دفاع کو ترجیح دینا پڑ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی یورپی کمان کے سربراہ جنرل الیکسس گرنگیوچ نے پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے تحفظ دینے کے لیے موجودہ بحری وسائل ناکافی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بحریہ کا ایک اور ڈسٹرائر فراہم نہ کیا گیا تو دستیاب وسائل کو امریکا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مسلسل فوجی سرگرمیوں نے امریکی دفاعی صلاحیتوں اور وسائل پر نمایاں دباؤ ڈال دیا ہے۔

ایک امریکی دفاعی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ جنرل گرنگیوچ کا پیغام غیر معمولی نہیں، بلکہ ماضی میں بھی سینئر فوجی کمانڈرز ممکنہ خطرات اور وسائل کی کمی سے متعلق پینٹاگون کو اسی نوعیت کی تحریری رپورٹس بھیجتے رہے ہیں تاکہ پالیسی ساز بروقت فیصلے کر سکیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں مختلف فوجی کمانڈز محدود دفاعی وسائل اور جدید ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ گزشتہ پانچ ماہ سے جاری تنازع کے باعث امریکی فوج کے اہم دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی کے فیصلے کے بعد خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں تعینات امریکی بحریہ کے ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کے دفاعی نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ جدید ریڈار اور میزائل دفاعی نظام سے لیس جنگی جہاز ایران اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے جانے والے متعدد میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

پی این پی