پاک ۔چین کہانیاں | پاکستانی طالبہ ملکی دفاعی شعبوں میں خدمات سر انجام دینے کے لئے پر عزم

 

بیجنگ(شِنہوا)پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور اسی تعاون کے نتیجے میں پاکستانی طلبا کی بڑی تعداد چین کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ انہی باصلاحیت پاکستانی طلبا میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی آمنہ اشفاق بھی شامل ہیں جو اس وقت چین کے مشرقی صوبہ شان ڈونگ کے شہر جینان میں واقع شان ڈونگ یو نیورسٹی میں میٹریل سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں جو کہ آ ئندہ دو ماہ میں مکمل ہو نے جارہی ہے۔ آمنہ اشفاق نہ صرف اپنی علمی قابلیت کی وجہ سے نمایاں ہیں بلکہ وہ پاکستان کے لیے جدید سائنسی تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی اہم خدمات انجام دینے کا عزم رکھتی ہیں۔آمنہ اشفاق نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ فروری 2023 میں چین آئیں۔انہوں نے چین کو اپنی پی ایچ ڈی کے لیے اس لیے منتخب کیا کیونکہ چین آج دنیا میں سائنسی تحقیق، جدید لیبارٹریز اور ریسرچ سہولیات کے حوالے سے ایک نمایاں مقام کا حامل ہے اور پا کستانی طلبا کی بڑی تعداد چینی جا معات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ خاص طور پر میٹریل سائنس اور انجینئرنگ کے میدان میں چین کی جامعات بین الاقوامی سطح پر بہترین شہرت کی حامل ہیں۔آمنہ اشفاق کا تعلق پنجاب کے صنعتی شہر فیصل آباد سے ہے۔انہوں نے گفتگو کے دوران اپنے شہر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور صنعتی ترقی کے حوالے سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ انہیں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ وہ جدید سائنسی تعلیم حاصل کرکے اپنے شہر اور ملک کے صنعتی و سائنسی شعبوں میں اپنا کردار ادا کریں۔چین میں اپنے ابتدائی تجربات کے بارے میں بات کرتے ہوئے آمنہ اشفاق نے کہا کہ چینی عوام انتہائی دوستانہ، مہمان نواز اور تعاون کرنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پہلی بار چین پہنچیں تو عام لوگ بھی ان سے محبت اور عزت کے ساتھ پیش آئے۔ ان کے مطابق یہ مثبت رویہ آج بھی برقرار ہے اور یہی چیز بین الاقوامی طلبا کو چین میں ایک محفوظ اور دوستانہ ماحول فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین میں غیر ملکی طلبا کے لیے نہ صرف تعلیمی ماحول سازگار ہے بلکہ روزمرہ زندگی بھی کافی منظم اور سہولیات سے بھر پور ہے۔اپنی تحقیق کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آمنہ اشفاق نے بتایا کہ وہ ما ئیکرو ویو آبزارپشن کے شعبے میں تحقیق کر رہی ہیں۔وہ فنکشنل میٹریلز تیار کرتی ہیں جنہیں مائیکرو ویو آبزارپشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مز ید کہا کہ جدید دنیا میں الیکٹرو میگنیٹک انٹر فنس شیلڈنگ اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجیز کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور یہ تمام خاص طور پر دفاعی اور مواصلاتی شعبوں کے حوالے سے ہے۔آمنہ اشفاق نے پاکستانی اور چینی تعلیمی نظام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا تعلیمی نظام بھی بہتر ہے لیکن تحقیق کے حوالے سے چین کی سہولیات زیادہ جدید اور وسیع ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ چین کے تعلیمی نظام میں صنعت اور تعلیمی شعبے کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جو انہیں بہت متاثر کرتا ہے۔ یہاں جامعات صرف تھیوری پر مبنی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر اختراع اور انڈسٹریل ایپلی کیشن پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔تعلیم کے علاوہ آمنہ اشفاق نے چین کی سماجی زندگی، سفری سہولیات اور سیاحت کے شعبے کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی جدید، تیز اور منظم ہے۔ میٹرو سسٹم ، بلٹ ٹرینز اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز نے روزمرہ زندگی کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ چین میں سفر کرنا محفوظ اور آسان ہے جبکہ مختلف تاریخی اور سیاحتی مقامات چین کی قدیم تہذیب اور جدید ترقی کا خوبصورت امتزاج پیش کرتے ہیں۔پاکستان میں اپنے مستقبل کے کردار کے حوالے سے آمنہ اشفاق نے کہا کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد پاکستان میں ڈیفنس ٹیکنالوجی ، ایڈوانسڈ میٹریل ریسرچ اور مواصلاتی شعبوں میں خدمات انجام دینا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ خاص طور پر الیکٹرو میگنیٹک انٹر فنس شیلڈنگ اور ما ئیکرو ویو آبزارپشن میٹریل کے شعبے میں پاکستان میں تحقیقی ما حول کو فروغ دینا چاہتی ہیں تاکہ ملک جدید دفاعی اور صنعتی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی طرف بڑھ سکے۔انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی اور سائنسی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا جس سے دونوں ممالک کے نوجوانوں کو تحقیق ، اختراع اور مشترکہ ترقی کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

Comments (0)
Add Comment