اسلام آباد ہائیکورٹ؛ قومی کرکٹرز کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم معطل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے تمام فارمیٹس کے کھلاڑیوں کی تنخواہ، میچ فیس، سینٹرل کنٹریکٹس، الاؤنسز، پی سی بی بجٹ اور دیگر مالی فوائد کی معلومات فراہم کرنے کا حکم معطل کر دیا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پی سی بی کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے انفارمیشن کمیشن کا 9 جولائی کا فیصلہ آئندہ سماعت تک معطل کر دیا۔

عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن اور شہری کاشف شہزاد اعوان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

پی سی بی کے وکیل کاشف ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ طلب کردہ معلومات صرف ادارہ جاتی اخراجات تک محدود نہیں، انفرادی شخصیات کی ذاتی مالی معلومات اور کانفیڈینشل معاہدوں کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔

عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے حکم پر عمل درآمد روکتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

دوسری جانب، پاکستان اور جنوبی افریقا ون ڈے سیریز سے حاصل آمدن، اخراجات، براڈ کاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپس و دیگر تفصیلات فراہمی کے کیس میں بھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلات فراہمی کا انفارمیشن کمیشن کا حکم نامہ معطل کر دیا۔

عدالت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن کا 9 جولائی کا فیصلہ معطل کر دیا۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے پی سی بی کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن اور شہری نعیم احمد کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔

پی سی بی کے وکیل کاشف ملک نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اپنایا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 10 دن میں سیریز کی تفصیلات شہری کو فراہم کرنے کا حکم دیا، نومبر 2025 میں اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کی ون ڈے سیریز منعقد ہوئی، سیریز سے متعلق مالی اور انتظامی معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔

وکیل کاشف ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ طلب کی گئی معلومات میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپس، اشتہارات، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر تجارتی ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کی مکمل تفصیل شامل ہے۔ کھلاڑیوں کی انعامی رقم، میچ فیس، سیکیورٹی انتظامات، اسٹیڈیم انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کو کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔

پی سی بی کے وکیل نے کہا کہ اقبال اسٹیڈیم کو پی ایس ایل سیزن 12 کی میزبانی کے قابل بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن کا حکم نامہ قانونی طور پر درست نہیں لہٰذا استدعا ہے کہ کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

پی این پی

Comments (0)
Add Comment