بیجنگ :جاپان کی وزارتِ دفاع نے 2026 کا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیا۔ ریکارڈ 598 صفحات پر مشتمل اس نئی دستاویز میں نام نہاد “علاقائی سلامتی کے بحران” کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، چین کو بدستور غیرمعمولی سب سے بڑا تزویراتی چیلنج” قرار دیا گیا ہے، جبکہ جاپانی حکومت کی فوجی توسیع کی پالیسی، جنگی نظام میں تبدیلی اور فوجی صنعت کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ جاپان جنگ کے بعد قائم امن کے نظام کی پابندیوں سے نکل کر تیزی سے دوبارہ عسکریت پسندی کی راہ پر گامزن ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان کی چین کے خلاف اشتعال انگیز پالیسی مختلف شعبوں تک پھیل سکتی ہے، جبکہ نام نہاد “چین کے چیلنج” کو جواز بنا کر اپنے سلامتی کے تزویراتی نظام کو ازسرِ نو تشکیل دیا جا رہا ہے، تاکہ رواں سال “سلامتی سے متعلق تین بنیادی دستاویزات” میں مجوزہ ترامیم کی راہ ہموار کی جا سکے۔اسی روز جب نیا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیا گیا، جاپان کی 32 تنظیموں نے مشترکہ احتجاجی خط جاری کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے “سلامتی سے متعلق تین بنیادی دستاویزات” میں ترامیم اور “غیر جوہری تین اصولوں” میں تبدیلی کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ امن آئین کی پاسداری کی جائے۔جاپان کے نئے ڈیفنس وائٹ پیپر میں چین کے خلاف بے بنیاد الزامات پر چین پہلے ہی شدید عدم اطمینان اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے جاپان سے باضابطہ احتجاج کر چکا ہے۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے بھی متعلقہ مواد پر شدید احتجاج کیا ہے۔ اسی دوران کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے کورین ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی وزیر کم یو جونگ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاپان تیزی سے جنگی ریاست میں تبدیل ہونے کی سمت بڑھ رہا ہے، اس لیے عالمی برادری کو چوکنا رہنا چاہیے اور جاپان کو عسکری طاقت بننے کی راہ پر بلا روک ٹوک آگے نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔