گولہ بارود کی کمی کے بعد امریکا کا کم قیمت ڈرون شکن میزائل تیار کرنے کا فیصلہ

واشنگٹن (پی این پی )امریکی فوج نے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کے بعد چھوٹے ڈرونز کو تباہ کرنے کے لیے کم لاگت والے نئے میزائل تیار کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج ایسے میزائل کی تلاش میں ہے جو کم قیمت ہونے کے باوجود چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کو مثر انداز میں نشانہ بنا سکے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک خریداری دستاویز میں نئی ضروریات بیان کی گئی ہیں۔ دستاویز کے مطابق امریکی فوج چاہتی ہے کہ ہر میزائل کی تیاری پر ڈیڑھ لاکھ ڈالر سے کم لاگت آئے تاکہ انہیں بڑی تعداد میں تیار کیا جا سکے۔دستاویز میں کم از کم 5 ہزار میزائلوں کی خریداری کا ہدف بھی رکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی فوج کم قیمت دفاعی نظام کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔رپورٹ کے مطابق نئے میزائل کو ایسے چھوٹے ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے جن کا وزن تقریبا 20 سے 1,300 پانڈ کے درمیان ہو، جبکہ اس کی موثر مار تقریبا 15 میل تک ہونی چاہیے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ جنگوں میں کم قیمت ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کو اپنے فضائی دفاعی نظام پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ مہنگے میزائلوں سے سستے ڈرونز کو گرانا اقتصادی طور پر مثر حکمت عملی نہیں سمجھی جاتی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی نئی منصوبہ بندی کا مقصد دفاعی اخراجات میں کمی لانا، ڈرون حملوں سے مثر انداز میں نمٹنا اور مستقبل کے ممکنہ تنازعات کے لیے دفاعی تیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں یہ رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ مختلف فوجی کارروائیوں کے بعد امریکا کے بعض اہم میزائل ذخائر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

پی این پی