امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس وقت ایران کے مسئلے سے “توجہ مبذول کیے بغیر ” نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ عندیہ دیاکہ امریکہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی نے ایران کے اقتصادی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
اسی روز ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان حسن کاشکاوی نے تصدیق کی کہ کمیٹی نے آبنائے ہرمز میں سلامتی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک ایکشن پلان کے مجموعی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 8 اگست کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات ایک معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں اور دونوں فریق ایک “عارضی راستے” کے تعین پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا مطلب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے متعدد مطالبات بھی رکھے ہیں، جن میں امریکہ کی جانب سے ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں مستقل طور پر بند کرنا، ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اور تمام پابندیاں ختم کرنا، ایرانی منجمد اثاثے بحال کرنا اور نقصانات کا ازالہ کرنا شامل ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گا۔