کسٹمز کے ہاتھوں پکڑی گئی 400 کلو خالص چاندی سیسے میں تبدیل کرنے کا مقدمہ درج

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے 400 کلوگرام چاندی کو سیسے میں تبدیل کرنے کے معاملے کا مقدمہ درج کرلیا جس میں سابق کلیکٹر سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل کوئٹہ نے کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کی تحویل میں موجود تقریباً 698 کلوگرام چاندی میں سے قریب 400 کلوگرام خالص چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کرنے اور سرکاری مال میں خوردبرد کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی اے اینٹی کرپشن نے کوئٹہ کسٹمز کی تحویل سے 400 کلو چاندی مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کرنے کے کیس میں ایف آئی اے نے سابق کلکٹر سمیت 10 افراد کو نامزد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کسٹمز کوئٹہ کی تحویل سے چاندی کو مبینہ سیسے میں تندیل کئے جانے کے کیس میں پانچ جون 2026 کو درج کی جانیوالی ایف آئی آر نمبر ACC-QTA-39/26 میں سابق کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی سمیت سرکاری افسران، نجی افراد اور نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مبینہ طور پر تبدیل کی گئی چاندی کی مالیت 5 اپریل 2026 کو تقریباً 32 کروڑ روپے تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ انکوائری نمبر 93/2026 کی تکمیل کے بعد اسسٹنٹ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ شہریار وسیم کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا۔

انکوائری کے لیے شکایت کلیکٹر ہیڈکوارٹر آفس آف چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کی جانب سے ارسال کی گئی تھی جبکہ سیکریٹری انفورسمنٹ ایف بی آر کی جانب سے بھی مقدمہ درج کرنے کی اجازت دی گئی۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے ستمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 21 مختلف مقدمات میں تقریباً 697.925 کلوگرام چاندی ضبط کی تھی، ان مقدمات کا اس وقت متعلقہ ایڈجوڈیکیٹنگ افسران کی جانب سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا اور چاندی کی ضبطگی کا کوئی حتمی حکم بھی موجود نہیں تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق اس صورت حال میں یہ مقدمات CGO-12/2002 کے تحت فروخت یا ڈسپوزل کے لیے پاکستان منٹ لاہور بھیجنے کے مرحلے پر نہیں پہنچے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضوں کے باوجود اْس وقت کے کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی نے ماتحت افسران، بشمول اْس وقت کے ڈپٹی کلکٹر طارق حسین، کی دستاویزی رائے کے برخلاف چاندی کوریونیو جنریشن کے نام پر براہِ راست پاکستان منٹ لاہور میں جمع کروانے پر اصرار کیا 19 فروری 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاوٴس کے انچارج انسپکٹر محمد زمان مزاری نے فائل میں نوٹ درج کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ 11 مقدمات میں 308,975.1 گرام چاندی اور پانچ مقدمات میں 4,775.34 گرام سونا مختلف قانونی فورمز پر زیرِ التوا تھا اور ان کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق انسپکٹر زمان مزاری نے تجویز دی کہ ضبط شدہ اشیا کو کسٹمز جنرل آرڈر-12/2002 میں دی گئی ہدایات کے مطابق تحویل میں رکھا جائے، جس کی اسی روز ڈپٹی کلیکٹر طارق حسین اور ایڈیشنل کلکٹر یوسف علی مگسی نے توثیق کی۔

تاہم الزام ہے کہ کلیکٹر کرم الٰہی نے فائل پر ریمارکس درج کیے کہ کسٹمز کو مال منٹ میں جمع کروانے سے کیا چیز روک رہی ہے اور اگر معاملہ بعد میں محکمہ کے خلاف طے ہوتا ہے تو کلہکٹریٹ رقم واپس کردے گا۔

ایف آئی آر میں اس اقدام کو ماتحت افسران کی رائے اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے برخلاف قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہےکہ 10 مارچ 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاوٴس کے انچارج پریونٹیو آفیسر یاسر عرفات نے تقریباً 705,622.1 گرام ضبط شدہ چاندی کے 22 مقدمات پاکستان منٹ لاہور میں جمع کروانے کی تجویز دی۔

تاہم نوٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تمام مقدمات زیرِ ایڈجوڈیکیشن ہیں اور ان کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ایف آئی آر کے مطابق متعلقہ افسران نے واضح احکامات طلب کیے کہ ضبط شدہ اشیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھی جائیں یا پاکستان منٹ بھیجی جائیں لیکن فائل پر کوئی واضح تحریری حکم موصول نہیں ہوا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 2 مارچ کو ایڈیشنل کلیکٹر یوسف مگسی کو کلکٹر کرم الٰہی کی جانب سے واٹس ایپ پیغام موصول ہواجس میں تمام سونے اور چاندی کا ڈیٹا مرتب کرکے منٹ میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔

3 مارچ کو ایک اور پیغام میں سامان کو مارچ میں ایڈجوڈیکیٹ کرکے منٹ میں جمع کروانے کی ہدایت دی گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق ان پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلکٹر کو مقدمات کے زیرِ ایڈجوڈیکیشن ہونے کا علم تھا، اس کے باوجود وہ چاندی پاکستان منٹ بھجوانے پر مصر رہے 10 مارچ کو پاکستان منٹ لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کے نام خط تیار کیا گیا۔ جس میں کسٹمز کوئٹہ کی جانب سے ضبط کی گئی 575,975.1 گرام چاندی کو ڈسپوزل کے لیے بھیجنے کا ذکر تھا۔

ایف آئی آر کے مطابق کلکٹر نے مسودے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزن 446 کلوگرام کردیا اور چاندی کو ضبط کرنا ظاہر کیا تھا۔



پی این پی

Latestlatest news
Comments (0)
Add Comment