ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے حوالے سے بڑا دعویٰ سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا ہے اور اس وقت اس اہم آبی راستے کی نگرانی امریکی فورسز کے پاس ہے۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز میں اپنی بحری موجودگی کے ذریعے بحری آمدورفت کو کنٹرول کر رہا ہے۔ ان کے بقول امریکی بحریہ کی ناکہ بندی انتہائی مضبوط ہے اور صرف انہی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے جنہیں امریکی حکام اجازت دیتے ہیں۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے بعض اوقات آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں، تاہم امریکی فوج ان کا سراغ لگانے اور انہیں ہٹانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ نے حالیہ کارروائی کے دوران آبی گزرگاہ کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا ہے۔ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں موجود خطرات کے باوجود امریکی افواج سمندری راستے کو محفوظ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری کارروائیاں مضبوط دفاعی حصار کی حیثیت رکھتی ہیں۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد واشنگٹن کی آئندہ حکمت عملی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔ صحافیوں کے سوالات پر انہوں نے مذاکرات کے نتائج اور مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے واضح معلومات دینے سے انکار کیا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں میں مزید شدت لا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران سے ہونے والے مبینہ نقصانات کا ازالہ حاصل کرنے کے لیے امریکا ہرجانے کا مطالبہ کرے گا۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی عالمی سپلائی گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور سمندری تجارت پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر تناؤ برقرار ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے آبی گزرگاہ پر بحری کنٹرول اور بارودی سرنگیں صاف کرنے کے دعوے کو خطے کی موجودہ صورتحال میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پی این پی