بیجنگ :اس موسم گرما میں چینی فلم “ایک بار مشرقِ وسطیٰ میں” نمائش کے لیے پیش کی گئی، جسے ناظرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ فلم شمال مشرقی چین سے تعلق رکھنے والے سو فو نامی ایک باورچی کے نقطۂ نظر سے جنگ کے دوران عام لوگوں کی زندگیوں اور مصائب کو پیش کرتی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق فلم نے مغربی سنیما میں رائج روایتی جنگی ہیرو ازم کی داستان سے ہٹ کر عام انسان کے نقطۂ نظر کو مرکز بنایا ہے۔ “بےفکری سے کھانا کھاؤ” جیسے سادہ اور عام فہم تصور کے ذریعے چینی عوام کے مشترکہ انسانی جذبات، ہم آہنگی کی اہمیت اور ظلم کی مخالفت جیسے تصورات کو مؤثر انداز میں فلم کا حصہ بنایا گیا ہے۔”بےفکری سے کھانا کھاؤ” عام چینی لوگوں کی روزمرہ بول چال میں استعمال ہونے والا ایک محبت بھرا جملہ ہے۔ فلم میں “ڈریگن ریستوران میں صرف امن اور اچھا کھانا ہے” کا مکالمہ فلم کی نمایاں باتوں میں شامل ہوگیا ہے۔ ایک ناظر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم بہترین فلم کے آسکر ایوارڈ کی پوری طرح مستحق ہے۔ تاہم بہت سے دیگر ناظرین کا کہنا ہے کہ ایک باہم جڑی ہوئی دنیا میں چینی فلموں اور چینی کہانیوں کو پرکھنے کے لیے آسکر یا ہالی ووڈ کے روایتی معیار کو واحد پیمانہ بنانے کی ضرورت نہیں۔درحقیقت،امریکہ کی بالادستی کی وجہ سے ہالی ووڈ کی بلاک بسٹرز فلموں میں امریکی ہیرو کو کسی حد تک تمسخر کا نشانہ بنایا گیا ہے۔حقیقی دنیا میں یہ بات خود عیاں ہے کہ امریکہ آخرکار عالمی امن کا محافظ ہے یا امن کو ثبوتاژ کرنے والا اور جنگ پر اکسانے والاملک ہے۔ بعض بیرونِ ملک ناظرین کے مطابق، چینی عوام کی تخلیق کردہ یہ جنگ مخالف فلم ہالی ووڈ کے روایتی جنگی بیانیے پر ایک براہِ راست اور بےلاگ تنقیدہے۔ فلم کی کہانی جنگ زدہ مشرقِ وسطیٰ کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ ایک فنکارانہ تخلیق ہے، تاہم اس کا سب سے قابلِ غور پہلو اس کا حقیقت پسندانہ پیغام ہے۔امید ہے کہ لوگوں کے لیے “بےفکری سے کھانا کھاؤ” ایک معمول کی زندگی کی علامت بن جائے گا۔