چین میں نوجوان محققین کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے ،فیلڈز میڈل یافتہ مارٹن ہائر

بیجنگ :بین الاقوامی بنیادی سائنس کانفرنس 2026 کا بیجنگ میں باضابطہ آغاز ہوا۔ دو ہفتے جاری رہنے والی اس عالمی علمی سرگرمی کا موضوع “بنیادی سائنس پر توجہ، انسانیت کے مستقبل کی رہنمائی” ہے۔ یہ کانفرنس مسلسل چار برس سے منعقد ہو رہی ہے۔ فیلڈز میڈل اور ٹورنگ ایوارڈ سمیت مختلف عالمی اعزازات کے متعدد فاتحین، چین اور بیرونِ ملک کے ماہرین تعلیم اور دنیا بھر کے معروف اسکالرز اس عالمی سطح کی بنیادی سائنس کی علمی سرگرمی کے آغاز کے موقع پر جمع ہوئے، جن میں فیلڈز میڈل یافتہ مارٹن ہائر بھی شامل ہیں۔مارٹن ہائر نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے دس برس کے دوران چین میں ریاضی کی تحقیق کی سطح میں نمایاں اور بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران چینی حکومت نے بیرونِ ملک موجود ماہرینِ تعلیم کو وطن واپس لانے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کیے اور بڑی تعداد میں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کو واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ آج چین میں نوجوان محققین کی ایک نئی نسل سامنے آ رہی ہے، جن میں سے بہت سے افراد نے بیرونِ ملک پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق مکمل کرنے کے بعد چین واپس آ کر مستقل تدریسی عہدے حاصل کیے ہیں۔ اعلیٰ صلاحیت رکھنے والے ریاضی دان بھی عمومی طور پر اسی ترقیاتی راستے کا انتخاب کر رہے ہیں۔مارٹن ہائر نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران چینی حکومت نے ریاضی سمیت بنیادی سائنس کے پورے شعبے میں مسلسل بڑے پیمانے پر وسائل صرف کیے ہیں، جو واقعی متاثر کن ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال چین کے دو ریاضی دان دنگ یو اور وانگ ہونگ نے فیلڈز میڈل حاصل کیا ہے۔ فیلڈز میڈل کو “ریاضی کی دنیا کا نوبیل انعام” بھی کہا جاتا ہے۔ رواں سال کے نتائج نے واضح طور پر ثابت کیا ہے کہ چین میں ابھرنے والے اعلیٰ صلاحیت کے حامل ریاضی دانوں نے ریاضی کے شعبے کا سب سے بڑا اعزاز حاصل کیا ہے۔

چین
Comments (0)
Add Comment