تہران:ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے “غیر قانونی اقدامات” کا براہِ راست نتیجہ ہے۔
حالیہ دنوں ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر شدید لفظی جھڑپ جاری ہے۔ دونوں جانب سے اس معاملے پر مسلسل بیانات سامنے آ رہے ہیں اور کوئی بھی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل کشیدگی اور اختلافات کے باعث صورتحال ایک چکر میں پھنس سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں مختصر مدت کے دوران مکمل بحری آمدورفت بحال ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق 14 اگست کو نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں ایک تقریب کے دوران دعویٰ کیا کہ “ایران کو شکست دینے کے بعد” وہ جلد ہی آبنائے ہرمز کو “امریکی علاقہ” قرار دینے کا اعلان کریں گے۔اس کے جواب میں ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے 15 اگست کو زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو محض ایک سوشل میڈیا پوسٹ، ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک حکم نامے یا ایک تقریر کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی ایران کا تھا، آج بھی ایران کا ہے اور مستقبل میں بھی ایران کا رہے گا۔ اس آبنائے کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے بھی اسی روز سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کے مضحکہ خیز بیانات محض ان کی اپنی خیالی سوچ ہیں۔