اسلام آباد (نیوذ ڈ یسک) ترکیہ کے تاریخی شہر ایسپینڈوس میں جاری آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران تقریباً 2400 سال قدیم ایک قبر دریافت ہوئی ہے،
جس سے ماہرین کو قدیم زمانے کے ممکنہ کھلاڑی یا پہلوان کی زندگی کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ترکیہ کی وزارتِ ثقافت و سیاحت کے مطابق ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو شہر کے مشرقی قبرستان میں ایک تابوت کی طرز پر تعمیر کی گئی قبر ملی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ تدفینی مقام پانچویں صدی قبل مسیح کے اواخر سے چوتھی صدی قبل مسیح کے درمیانی عرصے سے تعلق رکھتا ہے۔قبر کی کھدائی کے دوران چاندی کے کئی قدیم سکے اور دیگر نوادرات بھی برآمد ہوئے۔ ان سکوں پر کشتی لڑنے والے پہلوانوں کے نقوش موجود ہیں، جس کی وجہ سے ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ قبر میں مدفون شخص کا تعلق کھیلوں کی دنیا سے تھا اور وہ خود بھی پہلوان ہوسکتا ہے۔ترکیہ کے وزیرِ ثقافت و سیاحت نے کہا کہ قبر سے حاصل ہونے والی اشیا اس مفروضے کو تقویت دیتی ہیں کہ مدفون شخص کا تعلق قدیم ایسپینڈوس میں ہونے والی کھیلوں کی سرگرمیوں سے رہا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق قبر کو بڑی پتھریلی پلیٹوں کو باہم جوڑ کر صندوق نما شکل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس دریافت سے نہ صرف قدیم ایسپینڈوس میں رائج تدفینی رسومات اور طریقۂ کار کے بارے میں معلومات ملتی ہیں بلکہ اس دور میں کھیلوں سے وابستہ افراد اور ایتھلیٹس کے معاشرتی مقام کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔آثارِ قدیمہ کی ٹیم اب قبر سے برآمد ہونے والے سکوں اور دیگر اشیا کا تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے۔ ماہرین کو امید ہے کہ مزید تحقیق سے مدفون شخص کی شناخت، پیشے اور اس دور میں اس کی سماجی حیثیت کے بارے میں اضافی شواہد سامنے آسکتے ہیں۔
پی این پی