تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں ہے۔
صدر پزشکیان کے دفتر کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے تہران میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی علاقائی سالمیت کے دفاع کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے عمل میں ہم اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ اور دانش مندی، وقار اور مصلحت کو برقرار رکھتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اہداف جنگ کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ملک کے منجمد اثاثوں کی واگزاری اور اس کے بعد جوہری مذاکرات ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز انتظامیہ کے اعلیٰ نمائندوں کو ایران کے ساتھ اپنی بات چیت روکنے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک ’’تباہ کن معاشی کارروائی‘‘ کی دھمکی دی جس سے چند گھنٹے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ صورتحال ’’بہت اچھی‘‘ ہے۔
تہران اور واشنگٹن نے 18 جون کو تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے کے لئے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کئے تھے۔ تاہم یہ ابھی تک واضح نہیں کہ ایم او یو کے تحت 60 دن کی مذاکراتی مدت پیر کو ختم ہونے اور گزشتہ ماہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ بات چیت کس طرح آگے بڑھے گی۔