18.5 ٹریلین یوآن! چین سپر خریدارکے طور پر عالمی منڈی میں اعتماد بڑھا رہا ہے

بیجنگ:2025 میں چین کی درآمدات 18.5 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئیں اور چین مسلسل 17 سال سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی درآمدی منڈی رہا ہے۔ چین دنیا کے تقریباً 80 ممالک کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی بن چکا ہے، جس سے ان ممالک میں روزگار کے مواقع اور محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی درآمدات تاریخ میں پہلی بار 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گئیں۔ چین ایک سپر بائر ” کے طور پر دنیا کے لیے “عالمی منڈی” کے دروازے کھول رہا ہے۔بین الاقوامی تجارت دنیا بھر کی کمپنیوں کی جانب سے آزادانہ کاروباری فیصلوں کے تحت ہوتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں کوئی زبردستی خرید و فروخت” نہیں ہوتی۔ چین کی زیادہ برآمدات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی منڈی کو مسابقتی قیمتوں پر معیاری چینی مصنوعات کی ضرورت ہے۔ بڑا تجارتی سرپلس بھی عالمی سطح پر لیبر کی تقسیم اور تقابلی برتری کا ایک فطری نتیجہ ہے۔ چین جن مصنوعات کو برآمد کرتا ہے، وہ عموماً وہی شعبے ہیں جن میں دیگر ممالک یا تو پیداوار نہیں کرنا چاہتے یا جہاں پیداواری لاگت نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ کسی ملک کے “روزگار چھیننے” کا معاملہ نہیں بلکہ عالمی صنعتی سپلائی چین کے مؤثر انتظام اور عالمی منڈی کی جانب سے لاگت اور خطرات میں توازن قائم کرنے کے ایک معقول انتخاب کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں چین کی درآمدات کی شرحِ نمو برآمدات سے 8 فیصدپوائنٹس سے زیادہ ہے۔ اگر چین واقعی صرف “بیچنے” میں دلچسپی رکھتا اور خریدنے کی پرواہ نہ کرتا تو درآمدات کی شرحِ نمو برآمدات سے زیادہ کیوں ہوتی؟ مغرب کی جانب سے پیش کیا جانے والا “انتخابی اندھے پن” کا یہ بیانیہ یا تو حقائق سے لاعلمی کا نتیجہ ہے یا دانستہ طور پر حقائق کو نظرانداز کرنے کی کوشش۔بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی تحفظ پسندی کے رجحان کے پیش نظر چین درآمدات کو وسعت دینے کے لیے مسلسل واضح پالیسی اقدامات کر رہا ہے۔ ٹیرف میں کمی اور کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے سے لے کر چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے انعقاد اور ادارہ جاتی سطح پر مزید کھلے پن تک، چین کثیرالجہتی تجارتی نظام کے تحفظ اور عالمی معیشت میں اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہا ہے۔ چین کے “سپر خریدار” دنیا کے لیے نہ صرف “عالمی منڈی” کے دروازے کھول رہے ہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔

چین سپر خریدار
Comments (0)
Add Comment