اسلام آباد: چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے سلسلے میں چائنا میڈیا گروپ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے باہمی اشتراک سے “Echo: Youth in Action” کے عنوان سے خصوصی فورم کا انعقاد کیا گیا،تقریب میں پاکستان کی مختلف جامعات کے اساتذہ، طلبہ، محققین اور چین میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ نے شرکت کی۔تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر تھیں، جبکہ پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چن پھنگ مہمانِ اعزاز تھے۔تقریب میں چائنا میڈیا گروپ کی دستاویزی فلم بازگشت “Echo” بھی پیش کی گئی، جس میں چین اور پاکستان کے طلبہ کے درمیان گہرے روابط اور مشترکہ تجربات کو اجاگر کیا گیا۔وزیرِ تعلیم وجیہہ قمر نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کے روابط، تعلیمی تبادلوں اور مشترکہ علمی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے نوجوانوں کو دونوں ممالک کی زبان، ثقافت اور معاشرتی اقدار سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ تاکہ طلبہ کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے قیمتی مواقع میسر آئیں۔چینی سفارت خانے کے ثقافتی قونصلر چن پھنگ نے کہا کہ تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی تفہیم اور ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کو چینی زبان سیکھنے اور چین کی ترقی، ثقافت اور معاشرے کو قریب سے سمجھنے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے حالیہ دورۂ چین کو یادگار قرار دیتے ہوئے چین کے اعلیٰ تعلیمی نظام، تحقیق اور عالمی سطح پر اس کی نمایاں حیثیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے سینٹر آف ایکسلینس فار سی پیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سید حسنات شاہ نے سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نالج کوریڈور کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی مستقبل کے تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے چینی طلبہ کی پاکستان میں تعلیمی آمد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان روابط اور ثقافتی ہم آہنگی مزید مضبوط ہو۔سینئر تجزیہ کار اور ماہرِ امورِ چین خالد تیمور اکرم نے چین کی تیز رفتار ترقی میں تعلیم، تحقیق اور جدید علوم کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعلیمی تعاون کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔چین میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ نے بھی اپنے خیالات اور خوش گوار تجربات کا بخوبی اظہار کیا اور کہا کہ چین میں تعلیم نے انہیں علمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے ساتھ ساتھ چینی معاشرے اور ثقافت کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ تعلیمی تعاون، نوجوانوں کے روابط، طلبہ و اساتذہ کے تبادلے، تحقیق اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دے کر پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کو نئی نسل تک مزید مضبوط انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔