امریکی وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایران کے خلاف متعدد نئی اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا اور دھمکی دی کہ ایران کی “تمام اقتصادی زندگی کی رگیں” کاٹ دی جائیں گی، یہاں تک کہ اسے مکمل طور پر تنہا کر دیا جائے۔ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان سے ایران کے ساتھ روابط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ کنٹرول کی جانب سے 24 اگست کو جاری بیان کے مطابق، امریکہ نے اسی روز ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا دائرہ ہوابازی، ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، بحری نقل و حمل اور ٹیکنالوجی سمیت پانچ شعبوں تک وسیع کر دیا۔اسی روز ایران کی جانب سے بھی امریکی دھمکیوں کے جواب میں متعدد بیانات سامنے آئے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاملات میں اپنے الفاظ اور طرزِ عمل کو تبدیل کرنا چاہیے، جبکہ طاقت اور دھونس پر انحصار متعلقہ عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر محمد مخبر نے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے مقابلے میں ایران کا ردعمل پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات کی۔ ملاقات میں ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور مستقبل کی صورتحال سمیت دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاکہ بالآخر تنازع کا جامع حل حاصل کیا جا سکے۔