چینی انسان نما روبوٹس اپنے “ارتقاء” کی رفتار تیز کر رہے ہیں، چینی میڈیا

بیجنگ :بیجنگ میں منعقد ہونے والے دوسرے عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کو ایسوسی ایٹڈ پریس، جاپان کی آساہی شمبن ویب سائٹ اور اسپین کی ایل پیس ویب سائٹ سمیت متعدد غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھرپور توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی۔ گزشتہ گیمز کے مقابلے میں رواں سال کے مقابلوں میں روبوٹس کی عملی صلاحیتوں پر زیادہ توجہ دی گئی اور ہیومنائیڈ روبوٹس مختلف کام انجام دینے میں زیادہ قابل دکھائی دے رہے ہیں۔ چینی روبوٹس کی کارکردگی خاص طور پر نمایاں رہی۔ 100 میٹر دوڑ میں انسانی ریکارڈ توڑنے سے لے کر ہسپتالوں میں مریضوں کو مطلوبہ مقامات تک رہنمائی فراہم کرنے تک، چینی روبوٹس نے مختلف عملی کام کامیابی سے انجام دیے ہیں۔تو چینی ہیومنائیڈ روبوٹس اپنی کی رفتار کیسے تیز کر رہے ہیں؟ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ مسلسل پالیسی سپورٹ ، مکمل صنعتی نظام، مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیت، نمایاں لاگت کی برتری اور چین میں وسیع منظرناموں کے مشترکہ اثرات کا نتیجہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، چینی ساختہ صنعتی روبوٹس کے استعمال کا دائرہ قومی معیشت کے 253 شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین میں 40 ہزار سے زائد ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کیے گئے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 97 فیصد ہیں۔ ہیومنائیڈ روبوٹس کی برآمدات میں بھی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں سال بہ سال 210 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس، عالمی روبوٹ کانفرنس اور عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز سمیت متعدد بین الاقوامی سرگرمیوں کا انعقاد کیا، جن کے ذریعے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پیداوار کی طلب کے درمیان رابطے کے لیے پل قائم ہوا ہے۔ اس عمل نے نئی ٹیکنالوجیز کے عملی استعمال کو مزید تیز کیا ہے۔ چین کی سائنسی اور تکنیکی اختراع کی بنیادی حکمت عملی ہمیشہ کھلے پن، تعاون، باہمی فائدے اور جیت جیت کے اصولوں پر مبنی رہی ہے، تاکہ تکنیکی ترقی کے ثمرات حقیقی معنوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

Comments (0)
Add Comment