بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی

واشنگٹن (پی این پی)امریکی ارب پتی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے نوکریاں اور انسانی زندگی پر پڑنے والے خطرات کے حوالے سے ایک سخت لہجے میں تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں،

جب کہ اس سے پیدا ہونے والی ہولناک اتھل پتھل سے نمٹنے کے لیے کوئی وسیع تر منصوبہ موجود نہیں ہے۔اپنی ذاتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے 12 صفحات کے ایک مضمون میں بل گیٹس نے مزید کہا کہ بہترین حالات میں بھی مصنوعی ذہانت کے اس نئے دور میں منتقلی انسانی تاریخ کے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز دور میں سے ایک ہوگی اور فی الحال ہم اس کے لیے تیاری نہیں کر رہے ہیں، مجھے ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ رہنما، ماہرین اور معاشرے ان چیلنجز سے مناسب انداز میں نمٹ رہے ہوں۔بل گیٹس کا یہ پیغام ان کے 2023 کے اس مضمون کے مقابلے میں زیادہ مایوس کن دکھائی دیتا ہے، جب انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس انقلاب کے بارے میں اتنا ہی پرجوش محسوس کرتے ہیں جتنا کہ انٹرنیٹ اور پرسنل کمپیوٹرز کی آمد پر تھے۔اگرچہ ان کے نئے مضمون میں توانائی، طبی دیکھ بھال اور زراعت کے شعبوں میں ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی زبردست فوائد حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اس منتقلی کو بری طرح سنبھالا گیا تو حالات کتنے خراب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مزید ضابطہ بندی ضروری ہے۔گیٹس نے 3 ایسے نکات کی نشاندہی کی جن پر مصنوعی ذہانت گہرا اثر ڈال رہی ہے،اس کے علاوہ بل گیٹس کے مضمون کا ایک بڑا حصہ ملازمتوں پر مرکوز تھا، جس میں اشارہ کیا گیا کہ شروعاتی اور درمیانے درجے کی نوکریاں غائب ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت جلد ہی دستی (مینول) نوکریوں کو بھی متاثر کرے گی اور اس تبدیلی کا دائرہ کار اور رفتار اسے پچھلی محنت کش مارکیٹ کی تبدیلیوں سے مختلف بناتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ زراعت کے کام سے دفتری نوکریوں تک منتقلی میں نسلیں لگ گئیں، جبکہ قانون، کسٹمر سروس، سافٹ ویئر اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبے ایک ہی دہائی کے اندر مصنوعی ذہانت کے اثرات محسوس کریں گے۔ گیٹس نے لکھا کہ جب مصنوعی ذہانت غلطیوں سے پاک کام پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گی، تو وہ انسان کی تصدیق کے بغیر اکیلے کام کرنے کے قابل ہو جائے گی، کمپنیوں کے پاس اس کی اجازت دینے کے لیے تمام معاشی ترغیبات موجود ہوں گی۔

اس کے علاوہ انہوں نے بجلی کے نیٹ ورکس، ہسپتالوں اور بینکوں کو نشانہ بنانے والے سائبر حملوں کے خطرات پر زور دیتے ہوئے اشارہ کیا کہ دھوکہ دہی اور نگرانی بڑے پیمانے پر پھیل جائیں گے۔انہوں نے لکھا کہ مصنوعی ذہانت حکومتوں کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مہلک طاقت استعمال کرنے کے قابل بنا دے گی۔جہاں تک انسانی رشتوں کا تعلق ہے بل گیٹس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت ایک ایکو چیمبر(گونجنے والا کمرہ) میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے بچوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیٹ بوٹس نشہ آور ہو سکتے ہیں اور ایک طرح کی آسان اور بغیر کسی آزمائش کے دوستی فراہم کر سکتے ہیں، اس سے تنقیدی سوچ کی صلاحیت میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انسانی سوچ کی صلاحیت کو کھونے کے لیے یہ سب سے بدترین وقت ہوگا۔ ڈیپ فیک اور غلط معلومات کے دور میں جو ہر شخص کے لیے الگ سے تیار کی جا سکتی ہیں، سچ اور غیر سچ میں فرق کرنے کی صلاحیت زندگی کے لیے ایک بنیادی ہنر بن جاتی ہے۔اس لیے گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز اور روبوٹس پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے کمپنیوں کی انسانی مزدوری سے جان چھڑانے کی دوڑ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو منظم کرنے کے لیے قوانین بنانے میں تعاون کریں، خاص طور پر امریکہ اور چین کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

پی این پی