بیجنگ :شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس کرغزستان میں منعقد ہو نے والا ہے۔ایس سی او کے سیکرٹری جنرل یرمیک بائیف نے سی ایم جی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ گزشتہ ۲۵ برسوں میں، شنگھائی تعاون تنظیم نے کامیابی سے باہمی اعتماد کا ایک ماحول تشکیل دیا ہے، اور مشاورت کے ذریعے مساوات اور باہمی احترام پر مبنی ایک مکالماتی نظام وضع کیا ہے۔ مختلف خصوصیات اور مؤقف رکھنے والے ممالک نے ایک ساتھ مل کر کام کرنا سیکھا ہے، اور سب سے پیچیدہ مسائل پر اتفاق رائے حاصل کیا ہے جو ان کے خیال میں، ۲۵ برسوں میں تعاون کے ذریعے حاصل ہونے والے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے۔یرمیک بائیف نے کہا کہ دوسرا اہم نتیجہ یہ ہے کہ ایس سی او نے وسیع شعبوں میں کثیر سطحی تعاون کا ایک منفرد میکانزم قائم کر لیا ہے۔بڑھتی ہوئی ‘ایس سی او فیملی ‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ملک کے بڑے یا چھوٹے ہونے، معیشت کے طاقتور یا کمزور ہونے کی بنیاد پر ممالک کو تقسیم نہیں کرتی بلکہ تمام ممالک کو مساوی حیثیت حاصل ہے۔ یہی ایس سی او کی قدر اور کشش ہے۔سیکٹری جنرل ایس سی او یرمیک بائیف نے کہا کہ گزشتہ سال تھیان جن سربراہی اجلاس نے ایس سی او کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے گلوبل گورننس انیشی ایٹو پیش کیا ، جسے بین الاقوامی برادری نے تیزی سے قبول کر لیا اور سراہا۔انہوں نے کہا کہ ” گلوبل گورننس انیشی ایٹو انتہائی اہمیت اور گہرے اثرات کا حامل اور وقت کے تضاضوں کے عین مطابق ہے۔ اس اقدام کے اصول، اقدار اور اہداف بہت سی جہتوں میں شنگھائی تعاون تنظیم اور “شنگھائی اسپرٹ ” کے اصولوں، اہداف اور اقدار کے ساتھ گہری ہم آہنگی رکھتے ہیں ۔”ان کے خیال میں ، اس اقدام کی بنیاد “انسان کی مرکزیت” ہے ،یعنی عوام اور عوام کے مفادات، زندگی اور صحت کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد بھی یہی ہے ۔ اسی لیے ایس سی او کے تمام رکن ممالک نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔