چین، گیرونگ سرحدی بندرگاہ کے علاقے میں مواصلاتی سگنلز کی بحالی

بیجنگ :نیپال کی جانب مٹی اور پتھروں کا شدید تودہ گرنے کے باعث چین کے شی زانگ خوداختیار علاقے کی گیرونگ سرحدی بندرگاہ کے علاقے میں شدید جانی نقصان ہوا اور متعدد افراد لاپتا ہوگئے۔ 29 اگست کی شام 6 بجے تک گیرونگ میں اس آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 ہوگئی، جبکہ 546 افراد لاپتا ہیں۔30 تاریخ کی شام 8 بج کر 37 منٹ تک، شی زانگ خوداختیار علاقے کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نے ایک بیس اسٹیشن بحال کرنے کے ساتھ ساتھ 9 نئے بیس اسٹیشن قائم کیے ہیں۔ 30 اگست کی سہ پہر تک لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی نئی جھیل کا پانی بنیادی طور پر نکال دیا گیا تھا۔ مٹی کے تودے گرنے کے باعث گیرونگ سرحدی بندرگاہ کی جانب جانے والی جی 216 ہائی وے بند ہوگئی، جس کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔30 تاریخ کو شی زانگ خوداختیار علاقے کی فائر اینڈ ریسکیو ٹیم نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 11 فائر فائٹرز اور 1,240 ریسکیو آلات اور سامان متاثرہ علاقے کے مرکزی حصے تک پہنچا دیئے۔ 60 سے زائد سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ علاقے کے مرکزی حصے تک پہنچنے کے لیے 10 گھنٹے سے زائد کا سفر طے کیا اور امدادی کارروائیاں جاری رکھیں۔ اسی روز شی زانگ ملٹری ریجن کے لاجسٹکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے طبی اور وبائی امراض سے بچاؤ کی ٹیم طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ریسکیو کارروائیوں کی فرنٹ لائن کی جانب روانہ کی گئی۔30 اگست کو نیپالی حکومت کے انتظامات کے تحت چین کے ٹنل ریسکیو کے ماہرین نے نیپالی پولیس اور مقامی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر شمالی نیپال میں مڈ سلائیڈ سے متاثرہ علاقوں میں داخل ہوکر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کردیں۔

گیرونگ
Comments (0)
Add Comment