ایف بی آر نے سست رفتار نمو کے باوجود 1.71 ٹریلین روپے کا ہدف حاصل کر لیا


اسلام آباد:

ٹیکس وصولیوں میں سست رفتار نمو کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رواں مالی سال کے پہلے 2ماہ کا 1.71 ٹریلین روپے کا ہدف ایک بار پھر حاصل کر لیا، تاہم یہ کامیابی زیادہ سیلز ٹیکس وصولیوں کی بدولت ممکن ہوئی، جو مقررہ ہدف سے تجاوز کر گئیں۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سالانہ ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے ایف بی آر کو ابھی متعدد مشکلات پر قابو پانا ہوگا۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست کے دوران ٹیکس وصولیاں 1.722 ٹریلین روپے رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں صرف 55 ارب روپے یا 3.3 فیصد زیادہ ہیں۔

یہ شرح سالانہ ہدف پورا کرنے کے لیے درکار 17.4 فیصد نمو کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ایف بی آر نے 2ماہ کا مقررہ ہدف 12 ارب روپے سے زائد حاصل کیا۔

سینئر ٹیکس حکام کے مطابق ایف بی آر نے جولائی میں بہتر وصولیوں کے باعث 2ماہ کا مجموعی ہدف حاصل کیا، جبکہ اگست میں پیر کی شام تک وہ مقررہ ہدف سے 29 ارب روپے پیچھے تھا۔

اگست کے لیے 930 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں ایف بی آر نے تقریباً 900 ارب روپے جمع کیے۔

رواں مالی سال کے لیے حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایف بی آر کو 15.263 ٹریلین روپے کی سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے، جس کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.4 فیصد اضافے کی ضرورت ہے۔

صوبوں نے دفاع اور آبی وسائل کے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کو ایک ٹریلین روپے سے زائد گرانٹس دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم اس کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ ایف بی آر 15.263 ٹریلین روپے کی آمدنی جمع کرے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس مشینری نے 2ماہ میں 685 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس جمع کیا تاہم یہ مقررہ ہدف سے 74 ارب روپے کم رہا۔

انکم ٹیکس وصولی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی 29 ارب روپے کم رہی، جس کے نتیجے میں 4 فیصد منفی نمو ریکارڈ کی گئی۔

مسلسل دوسرے ماہ سیلز ٹیکس وصولیاں مقررہ ہدف سے زیادہ رہیں۔ ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی مد میں 719 ارب روپے جمع کیے، جو ہدف سے 85 ارب روپے زیادہ ہیں۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں سیلز ٹیکس وصولیوں میں 14 فیصد یا 86 ارب روپے اضافہ ہوا۔وفاقی ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی 118 ارب روپے رہی، جو تقریباً مقررہ ہدف کے برابر اور گزشتہ سال سے 3 ارب روپے زیادہ ہے۔

کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی 198 ارب روپے رہی، جو ہدف سے معمولی کم اور گزشتہ سال کے برابر ہے۔مجموعی ٹیکس وصولیوں میں سے 810 ارب روپے سے زائد یا 47 فیصد درآمدی مرحلے پر جمع ہوئے، جہاں ٹیکس چوری کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

ایف بی آر نے 155 ارب روپے کے ریفنڈز بھی ادا کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 31 ارب روپے زیادہ ہیں۔

ایف بی آر کی ٹیکس نفاذ مہم کو مختلف عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹیکس حکام کے مطابق سیاسی وجوہات اور پاکستان آٹومیشن ریونیو لمیٹڈ کی جانب سے ایسا نظام وضع کرنے میں ناکامی کے باعث نااہل افراد کی معاشی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے جو اس اقدام پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد یقینی بنا سکے۔

ایف بی آر نے بڑے ریٹیلرز کو ٹیکس نظام سے منسلک کرنے میں کامیابی حاصل کی اور گزشتہ مالی سال میں ایسے کاروباروں کی تعداد بڑھ کر 17,300 سے زائد ہوگئی، تاہم 14 سروس فراہم کنندگان کو ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کے لیے درکار حتمی انکم ٹیکس قواعد ابھی تک جاری نہیں کیے جاسکے۔

ایف بی آر کی جانب سے رواں سال فروری میں جاری کیا گیا مسودہ ایس آر او 288 ابھی تک قابلِ عمل نہیں ہوسکا۔

اس کے باعث کم از کم 14 سروس فراہم کنندگان ڈیجیٹل رپورٹنگ نظام سے منسلک نہیں ہوسکے، جبکہ 17,300 سے زائد ریٹیلرز میں بڑی تعداد روایتی کاروباروں، خصوصاً ٹیکسٹائل، سے وابستہ ہے۔

حتمی قواعد کے بغیر ریستوران، ہوٹل، موٹل، گیسٹ ہاؤسز، میرج ہالز، مارکیز، کلبز، بین الاضلاعی روڈ ٹرانسپورٹ، کورئیر اور کارگو سروسز، بیوٹی پارلرز، کلینکس، سلمنگ کلینکس، مساج سینٹرز، پیڈیکیور سینٹرز، تمام طبی خدمات فراہم کرنے والے ادارے بشمول ڈینٹسٹ اور ہیئر امپلانٹ سرجنز، پیتھالوجیکل اور میڈیکل ڈائیگناسٹک لیبارٹریز کو ڈیجیٹل نظام میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

ٹیکس حکام کے مطابق ٹیکس دہندگان کو رجسٹریشن کے بعد الیکٹرانک انوائسنگ کا ہارڈویئر اور سافٹ ویئر نصب کرکے ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے منسلک کرنا ہوگا، تاہم نئے ایس آر او کے نوٹیفکیشن کے بغیر یہ عمل ممکن نہیں۔



پی این پی

Latestlatest news
Comments (0)
Add Comment