گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے اور اسی طرح دیامر بھاشا ڈیم ملک کی ترقی و خوش حالی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کے متعدد اراکین کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پرنسپاک کی جانب سے گلگت بلتستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اوراس دوران وزیراعلیٰ امجد حسین نے صوبے میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے حوالے سے مواقع اجاگر کیے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کی ترقی اور خوش حالی کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہو، صوبائی حکومت اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ بونجی ڈیم سے 7ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ بھی گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہیں، اگر ہائیڈرو پر توجہ دی جائے تو ملک سے اندھیروں کا خاتمہ ہوگا اور خوش حالی کے نئے باب کا آغاز ہوگا، صوبائی حکومت میگاواٹ پروجیکٹس کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہنزل 20 میگاواٹ پاور پروجیکٹ اور 16میگاواٹ نلتر پاور پروجیکٹ جیسے اہم منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بجلی کی سہولت میسر نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نسپاک کے اعلیٰ افسران کو 54 میگاواٹ عطا آباد پاور پروجیکٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی تاکہ اس اہم منصوبے پر جلد کام شروع کیا جاسکے۔
اجلاس سے خطاب میں امجد حسین نے کہا کہ چلاس ایئرپورٹ فعال کرنے کے لیے کام جاری ہے، ہماری ترجیح ہے کہ اگلے 6 ماہ میں چلاس ایئرپورٹ مکمل طور پر فعال کیا جاسکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان جغرافیائی، دفاعی اور سیاحت کے حوالے سے منفرد مقام رکھتا ہے، گلگت بلتستان کے عوام اور بین الاقوامی و مقامی سیاحوں کو جدید روڈ انفرا اسٹرکچر اور بجلی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ نئے تجربوں کے بجائے ہمیں گلگت بلتستان میں موجود ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سے بھی ہماری سفارش ہوگی کہ گلگت بلتستان میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے تاکہ آئی پی پیز کے بجائے سستی بجلی پیدا کی جاسکے اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے بعد دیگر ممالک کو بھی بجلی فروخت کرکے زرمبادلہ کمایا جاسکے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں سینیٹر مولانا عطا الرحمن بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ سینیٹر عامر ولی الدین اور سینیٹر عبدالقادر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
پی این پی