ارمچی (شِنہوا) پنجاب سے لے کر شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خودمختار علاقے تک گلفام یوسف اور محمد ذیشان نے زرعی سائنس کے ذریعے اپنے وطن میں زیادہ سے زیادہ کپاس کے کاشتکاروں کی پیداوار بڑھانے میں مدد کرنے کے ایک مشترکہ مقصد کے تحت ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کیا ہے۔
پنجاب کپاس، گندم اور دیگر فصلوں کی وسیع پیمانے پر کاشت کے لئے مشہور ہے۔ دونوں نوجوان کسان خاندانوں میں پلے بڑھے اس لئے بچپن ہی سے زراعت سے ان کا گہرا تعلق رہا۔
محمد ذیشان نے کہا کہ ’’میرے آبائی علاقے کا زراعت سے گہرا تعلق ہے۔‘‘
پاکستان میں بیچلر ڈگری کی تعلیم کے دوران محمد ذیشان نے زرعی سائنس کا انتخاب صرف ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ اس امید کے ساتھ بھی کیا کہ ان کا علم ان کے والدین اور آبائی علاقے کے لوگوں کی آمدنی بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بالآخر ان کا سفر انہیں سنکیانگ کی شی حہ زی یونیورسٹی لے آیا جو چین کے کپاس پیدا کرنے والے اہم ترین علاقوں میں واقع ہے۔
حالیہ برسوں میں سنکیانگ نے کپاس کی نئی اقسام کی افزائش، مشینی کٹائی اور ماحول دوست طریقوں سے کیڑوں کے تدارک کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی روایتی زرعی طریقوں کو تبدیل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔
گلفام نے کہا کہ ’’پاکستان میں کچھ بڑے فارم بھی کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کے لئے ڈرون استعمال کرتے ہیں لیکن یہ ٹیکنالوجی ابھی بڑے پیمانے پر رائج نہیں ہوئی۔ سنکیانگ کے بہت سے علاقوں میں ڈرون جیسی ٹیکنالوجیز پہلے ہی استعمال کی جا رہی ہیں اور ان تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے۔”
2021 میں اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم مکمل کرنے کے بعد گلفام نے چین کا رخ کیا اور شی حہ زی یونیورسٹی میں ماسٹر ڈگری شروع کی۔ بعد ازاں انہوں نے وہیں رہ کر ڈاکٹریٹ کی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ایک ایسے ملک کے لئے جہاں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں گئے تھے چین ان کے لئے جوش و خروش کے ساتھ ساتھ چیلنج بھی لے کر آیا۔ جب وہ پہلی بار شی حہ زی پہنچے تو زبان سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی۔
گلفام نے ابتدا سے چینی زبان سیکھنا شروع کی اور چینی ہم جماعتوں کے ساتھ فعال طور پر رابطہ کیا۔ بے شمار گفتگو کے ذریعے وہ رفتہ رفتہ زبان اور یونیورسٹی کی زندگی سے مانوس ہوگئے۔
آج وہ سنکیانگ میں تعلیم حاصل کرنے اور زندگی گزارنے کے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگ ہوچکے ہیں۔
گلفام نے کہا کہ “اگرچہ یہ جگہ میرے آبائی علاقے سے مختلف ہے لیکن یہاں کچھ مماثلتیں بھی ہیں خاص طور پر کھانے اور روزمرہ زندگی میں۔ سب کچھ اچھا ہے۔”
جب بھی انہیں موقع ملتا ہے گلفام پاکستان میں اپنے دوستوں کے ساتھ چین میں اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں، انہیں اپنی زرعی تعلیم، سائنسی تحقیق اور ثقافتی تجربات کے بارے میں بتاتے ہیں اور مزید نوجوانوں کو چین میں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
اس کے کچھ عرصے بعد محمد ذیشان بھی شی حہ زی یونیورسٹی پہنچ گئے۔ دونوں نے اس سے قبل پاکستان کی ایک ہی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں چین میں روم میٹ بن گئے۔
جب محمد ذیشان پہلی بار چین پہنچے تو ان کی چینی زبان کی مہارت محدود تھی۔ گلفام نے انہیں زبان سیکھنے اور یونیورسٹی کی زندگی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دی۔
محمد ذیشان نے کہا کہ ’’انہوں نے مجھے اس یونیورسٹی کی سفارش کی تھی۔‘‘
اب محمد ذیشان ڈرون کے ذریعے کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ اور کیڑوں کے انسداد پر تحقیق کر رہے ہیں جس کا مقصد ٹیکنالوجی میں جدت کے ذریعے زرعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
اپنی لیبارٹری میں محمد ذیشان نہ صرف اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ ڈرون کیڑے مار ادویات کے استعمال کی کارکردگی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ یہ بھی تحقیق کرتے ہیں کہ ادویات کے اثر کے بعد کچھ کیڑے کیوں زندہ رہ جاتے ہیں۔ وہ کیڑوں کے نمونوں کا تجزیہ اور ان میں جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر کیڑے مار ادویات کے خلاف مزاحمت کے بنیادی عوامل کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کے مطابق یہ تحقیق کسانوں کو کیڑوں کے زیادہ موثر اور ہدف پر مبنی انسداد کے طریقے وضع کرنے اور غیر ضروری کیڑے مار ادویات کے استعمال کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہاں کپاس کے شعبے میں تحقیق بہت مضبوط ہے۔ اگر میں متعلقہ تحقیق کے لئے یہاں آتا ہوں تو مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں اپنی ترقی کے لئے بہتر مواقع ملیں گے۔‘‘
شی حہ زی یونیورسٹی نے 2002 سے بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینا شروع کیا۔ اب تک 41 ممالک کے ایک ہزار 880 سے زیادہ طلبہ اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں جبکہ اس وقت پاکستان، بنگلہ دیش، روس، ازبکستان اور کینیڈا سمیت 34 ممالک کے 600 سے زیادہ بین الاقوامی طلبہ یہاں زیر تعلیم ہیں۔
حالیہ برسوں میں زیادہ سے زیادہ پاکستانی نوجوانوں نے سنکیانگ کی جانب توجہ مبذول کی ہے اور اعلیٰ تعلیم کے لئے شی حہ زی یونیورسٹی کا انتخاب کیا ہے۔
درخواست دینے اور کیمپس کی زندگی سے ہم آہنگ ہونے سے لے کر پروفیسروں سے رابطے اور تحقیق کرنے تک گلفام اور محمد ذیشان نے نئے آنے والے طلبہ کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کئے ہیں جس سے انہیں چین میں تعلیمی اور روزمرہ زندگی کے ساتھ زیادہ تیزی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملی ہے۔
گلفام نے کہا کہ “بہت سے نئے آنے والے بین الاقوامی طلبہ کو معلوم نہیں ہوتا کہ درخواست کیسے دینی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء کہاں سے خریدنی ہیں یا اساتذہ سے کیسے رابطہ کرنا ہے۔ ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کی مدد کریں۔”
ان کے نزدیک چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فریم ورک کے تحت تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون مسلسل گہرا ہونے کے علاوہ دونوں ممالک کے تعلقات عام لوگوں کی زندگیوں میں بھی زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔
محمد نے کہا کہ انہیں اکثر چین میں گزاری ہوئی زندگی یاد آتی ہے اور جب وہ تعطیلات کے لئے پاکستان جاتے ہیں تو کیمپس واپس آنے کے منتظر رہتے ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ خنجراب پاس پر آمدورفت کی بہتر سہولیات نے سرحد پار تبادلے کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ دونوں نے ایک مرتبہ سڑک کے ذریعے اس گزرگاہ سے سفر کیا، راستے میں کاشغر جاتے ہوئے وہاں کے مناظر اور متنوع ثقافتوں سے لطف اندوز ہوئے اور پھر شی حہ زی واپس آئے۔
محمد ذیشان نے کہا کہ ’’زیادہ سے زیادہ چینی لوگ پاکستان جا رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پاکستانی نوجوان تعلیم حاصل کرنے اور کام کرنے کے لئے چین آ رہے ہیں۔ یہ تبادلے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لاتے ہیں اور زیادہ نوجوانوں کو مشترکہ ترقی کا مستقبل دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ سنکیانگ دونوں اقوام کے عوام کے درمیان دوستی کو جوڑنے والا ایک اہم پل ہے۔‘‘