ڈریگن رسٹورنٹ سفارت کاری”، کیا یہ چینی سفارت کاری کی سادہ فہمی ہے یا مغرب کی محدود سوچ ؟

بیجنگ:حالیہ دنوں جریدے اکانومسٹ” نے چینی فلم ریسٹورنٹ میں خوش آمدید” پر تبصرہ کرتے ہوئے چینی سفارت کاری کو “ڈریگن ریسٹورنٹ سفارت کاری” قرار دیا۔ فلم میں “اچھا کھانا کھاؤ، بچوں کی اچھی پرورش کرو” جیسے سادہ موضوعات کی بنیاد پر جریدے نے چین کے خارجہ تعلقات کو تجارتی مفادات سے متاثر اور نظریاتی معنوں میں “گہرائی سے محروم” قرار دیا۔ یہ طرزِ فکر عملی سوچ کو سطحی قرار دینے، ترقی کو تجارت پسندی کے مترادف سمجھنے اور عام لوگوں کی بنیادی خواہشات کو سیاسی نظریات سے محرومی تصور کرنے کے مترادف ہے۔فلم ریسٹورنٹ میں خوش آمدید” میں اصل سوال یہ نہیں کہ کیا کھانا سفارت کاری کی جگہ لے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ امن اور ترقی کیا ہیں اور بین الاقوامی تعاون کا مقصد کیا ہے؟ یہی دراصل بین الاقوامی سیاست میں سب سے زیادہ غور طلب سوالات میں سے ایک ہے۔چینی سفارت کاری باہمی احترام، باہمی مفاد پر مبنی تعاون، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، ترقی اور باہمی کامیابی پر زور دیتی ہے، جو سیاسی اصولوں سے خالی نہیں۔ اس کے برعکس چین کے پیش کردہ گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو میں مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی پر زور دیا گیا ہے اور “مقابلہ آرائی کے بجائے مکالمہ، گروہ بندی کے بجائے شراکت داری اور زیرو سم کے بجائے مشترکہ کامیابی” کی وکالت کی گئی ہے۔ یہ محض تجارتی بنیادوں پر قائم سادہ سوچ نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کے بارے میں ایک مختلف تصور ہے۔فلم کا بین الثقافتی پس منظر چینی سفارت کاری کی ایک اور خصوصیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، یعنی مختلف ثقافتوں کا احترام۔چینی سفارت کاری کبھی بھی یہ تقاضا نہیں کرتی کہ تمام ممالک چین جیسے بن جائیں، نہ ہی چین یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ترقی کا راستہ دوسرے ممالک میں جوں کا توں اختیار کیا جا سکتا ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ ہر ملک کو اپنی قومی صورتحال کے مطابق اپنے لیے موزوں ترقی کی راہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔

ڈریگن رسٹورنٹ
Comments (0)
Add Comment