چھنگ دو (شِنہوا) ڈوریان اور ریپ سیڈ آئل کے بعد چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ نے نقل و حمل، تجارت اور صنعت کے اپنے مربوط ماڈل میں ایک نئی زرعی جنس کا اضافہ کیا ہے۔ حال ہی میں پاکستانی خشک مرچوں سے بھری ایک مال بردار ٹرین بخیر و عافیت چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ پہنچ گئی جو نئی مغربی زمینی سمندری راہداری کے تحت مشترکہ بحری اور ریلوے ترسیلی راستے کے ذریعے چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے زرعی منصوبے کی مصنوعات کی اس پورٹ پر پہلی آمد ہے۔ یہ کھیپ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ نے اپنے مرکزی تجارتی و ترسیلی مرکز کے فوائد بروئے کار لاتے ہوئے مرچوں کی صنعت کے لئے سرحد پار ترسیل کا ایک نیا راستہ کامیابی سے کھول دیا ہے اور باضابطہ طور پر نقل و حمل کو مستحکم بنانے، تجارت کی تنظیم نو اور صنعتی فروغ کے ذریعے مربوط نقل و حمل، تجارت اور صنعت کی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم چھنگ دو۔چھونگ چھنگ خطے میں سرحد پار خصوصی زرعی صنعتوں کی اعلیٰ معیار کی ترقی میں نئی توانائی بھرتا ہے۔اطلاعات کے مطابق پورٹ پہنچنے والے کارگو کی کھیپ کو چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈیویلپمنٹ زون کنسٹرکشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (جسے آئندہ جنگ کائی جیان فا کمپنی پکارا جائے گا) نے سنبھالا جو 8 کنٹینرز پر مشتمل تھی، اس میں 80 ٹن سے زائد اعلیٰ معیار کی پاکستانی خشک مرچیں موجود تھیں۔ مزید 900 ٹن سے زائد مرچیں بھی مرحلہ وار روانہ کی جا رہی ہیں۔مرچ کی ترسیل کے روایتی ملکی طریقے یعنی چھنگ ڈاؤ بندرگاہ کے ذریعے درآمد، شمالی علاقوں میں تقسیم اور ملک گیر ہول سیل کے مقابلے میں نئی مغربی زمینی۔سمندری راہداری کے سمندری و ریل انٹرموڈل روٹ کے فوائد انتہائی زیادہ ہیں۔ اس کے ذریعے بیرون ملک سے مرچیں چھن ژو بندرگاہ کے راستے براہ راست چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ تک لائی جاتی ہیں جس کے مجموعی اخراجات میں ایک ہزار آر ایم بی فی ٹن کمی اور نقل و حمل کے وقت میں 7 سے 10 دن کی کمی ہو سکتی ہے۔ اخراجات اور وقت کی بچت کے ان غیر معمولی فوائد کے ساتھ اس روٹ نے مرچوں کی مربوط نقل و حمل، تجارت اور صنعتی ترقی کی راہ میں حائل نقل و حمل کی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔چین کے مغربی علاقے کی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ نئی مغربی زمینی۔سمندری راہداری اور چین۔یورپ ریلوے ایکسپریس دونوں کے لئے ایک دوہرے تزویراتی محور کا کام کرتی ہے۔ یہ پورٹ سرحد پار نقل و حمل، بانڈڈ گوداموں اور تجارتی تقسیم کے لئے جامع معاون نظام کی حامل ہے جو مرچ کی صنعت کی مجموعی ترقی کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔چھنگ دو ریلوے ہب کے ایک اہم لاجسٹکس ادارے اور آپریٹر کے طور پر چھنگ دو ریلوے لاجسٹکس سنٹر مال بردار ٹرین کی آمد پر اس کی معلومات بروقت مربوط کرتا ہے، ویگن کی جگہ کا تعین، سامان اتارنے اور ترسیل کے انتظامات بہتر اور تیز رفتار تقسیم ممکن بناتا ہے۔ جو سامان ریل کے ذریعے صوبہ سیچھوان کے اندر اور اس کے ساتھ ساتھ چھونگ چھنگ، گوئی ژو، یون نان اور دیگر علاقوں کو روانہ کرنا مقصود ہو اسے باقاعدہ طور پر چھنگ دو ریلوے لاجسٹکس سنٹر کے ترسیلی حجم کے اعداد و شمار میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ’’آمد ہی دراصل ٹرانزٹ ہے اور ٹرانزٹ ہی روانگی ہے‘‘ کا موثر ربط یقینی بناتا ہے جو چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ کی علاقائی تقسیم اور رسائی کی صلاحیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔جنگ کائی جیان فا کمپنی میں تجارتی امور کے سربراہ لی جیا رون نے بتایا کہ اس وقت چھنگ ڈاؤ، ہینان اور گوئی ژو میں مرچوں کی تقسیم کے 3 مراکز موجود ہیں جو کھپت جنوب مغرب جبکہ تقسیم شمال میں، کے عدم توازن کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ سیچھوان اور چھونگ چھنگ کا بنیادی کھپت کا خطہ طویل عرصے سے مرچوں کے کسی خصوصی اور بڑے پیمانے پر تقسیم کے مرکز سے محروم چلا آ رہا ہے۔ لی جیا رون نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان خشک مرچوں کی اس کھیپ کی کامیاب آمد پورٹ کے ذریعے گزرنے والے مال کو تجارتی حجم کی نمو اور صنعتی ذخیرے کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ کائی جیان فا کمپنی مرچوں کی درآمد، بانڈڈ گوداموں، ملک گیر تقسیم اور گہری پروسیسنگ کے لئے بھرپور معاونت کی خاطر بندرگاہ کے افعال، گوداموں کے تعاون اور سرحد پار خدمات میں اپنے بنیادی فوائد کو بہترین طریقے سے بروئے کار لائے گی۔ اس سے جنوب مغربی علاقے میں مرچ کی فراہمی اور تقسیم کی صنعت کی خامی دور کرنے میں مدد ملے گی اور یہ اقدام چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ کومرچ کے قومی تجارتی مرکز کے بلند ترین مقام پر فائز ہونے میں معاون ہوگا۔منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال ہونے کے ساتھ چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ مرچ کی تجارت میں روایتی جغرافیائی رکاوٹیں مکمل طور پر ختم کر دے گی، مرچ کی ترسیل کے عالمی نقشے کو ازسرنو تشکیل دے گی اور عالمی سورسنگ- چھنگ بائی جیانگ کی تقسیم- سیچھوان و چھونگ چھنگ کی کھپت- ملک گیر ہول سیل کا ایک بالکل نیا تجارتی نظام قائم کرے گی۔یہ اقدام مشرق اور مغرب کے باہمی تعاون اور زمینی و سمندری راستوں کی مربوط ترقی کا ایک نیا صنعتی نمونہ تشکیل دے گا۔ جنوب مغرب میں صارفین کی وسیع منڈی اور ریلوے پورٹ کی مرکزیت کی صلاحیتوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ اعلیٰ معیار کے مرچ کے عالمی وسائل کو اکٹھا کرتی رہے گی، ان کی موثر تقسیم یقینی بنائے گی، قومی سطح پر رسد و طلب کا ڈھانچہ بہتر بنائے گی اور مرچ کی عالمی تجارت میں وسائل کی تخصیص کے حوالے سے چین کے موثر کردار اور آواز کو مزید تقویت دے گی۔اعلیٰ معیار کی پاکستانی خشک مرچوں کی مسلسل درآمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مصنوعات کو ہائی دی لاؤ جیسے مشہور چینی ریسٹورنٹس، مقامی ہاٹ پاٹ اداروں اور چوڑی پھلی کے پیسٹ جیسی خصوصی مصالحہ جاتی صنعتوں کی ضروریات کے ساتھ بالکل ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ یہ عمل سیچھوان اور چھونگ چھنگ کی مخصوص خوراکی صنعت کی زنجیر میں گہرائی سے پیوست ہو جاتا ہے جو سمندر پار کاشت- سرحد پار نقل و حمل- بندرگاہ کی تقسیم- گہری پروسیسنگ- اختتامی فروخت پر مشتمل ایک مکمل بند سرکٹ صنعتی ماڈل کامیابی سے تخلیق کرتا ہے اور خام مال کی درآمد سے مصنوعات کی فروخت تک پورے سلسلے میں اضافی قدر یقینی بناتا ہے۔صنعتی منصوبہ بندی کے مطابق اگلے 3 سے 5 برسوں میں چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ روٹس، تجارت اور صنعت کے اپنے تین بنیادی فوائد کے تحت چین کے جنوب مغربی علاقے میں مرچ کی تقسیم کے سب سے بڑے، بہترین سہولیات سے آراستہ اور سب سے وسیع مرکز کی تعمیر کے لئے کوشاں ہوگی۔ اس لائحہ عمل کے تحت چھنگ دو ریلوے ایکسپریس ایشیا۔یورپ روٹ کے نظام کی ترقی کو فروغ دیتی رہے گی جو بین الاقوامی نقل و حمل کے مرکزی کوریڈورز کو مزید مضبوط کرے گی۔ یہ ادارہ رسد و طلب کے مابین ہم آہنگی، خصوصی خدمات، مصنوعات کی فراہمی اور کسٹم کلیئرنس کی اصلاحات پر منظم انداز میں توجہ مرکوز کرے گا تاکہ بین الاقوامی تجارت، نئی توانائی کی کمرشل گاڑیوں، سمارٹ آلات اور ماحول دوست خوراک جیسی مخصوص صنعتوں کو بھرپور انداز میں خدمات فراہم کی جا سکیں۔ یہ پورٹ درآمد شدہ اور مقامی خصوصیت کی حامل منفرد مصنوعات جیسے کہ ڈوریان، ریپ سیڈ آئل اور خشک مرچوں کے لئے مربوط نقل و حمل، تجارت اور صنعت کی کامیابیوں کو مستحکم کرے گی، مخصوص مصنوعات کی تقسیم کے مراکز میں معاونت کرے گی اور روٹس کے فوائد کو صنعتی وسعت اور برآمدی ترقی کے محرکات میں تبدیل کرے گی۔پاکستانی خشک مرچوں کی ریلوے کے ذریعے اس کھیپ کی آمد چھنگ دو بین الاقوامی ریلوے پورٹ پر مرچ کی صنعت کی مربوط نقل و حمل، تجارت اور صنعت کی ترقی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگلے مرحلے میں یہ خطہ پاکستان کے ساتھ زرعی تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دے گا، سمندر پار سے خام مال کی درآمدات کے پیمانے کو وسعت دے گا، کولڈ چین گوداموں، گہری پروسیسنگ اور برانڈڈ فروخت کے لئے جامع معاون سہولیات بہتر بنائے گا اور روٹس، تجارت اور صنعت کے گہرے انضمام کو لگاتار پروان چڑھائے گا۔ یہ اقدام اندرون ملک کے اس مرکز کو اقتصادی کھلے پن اور خصوصی صنعتوں کے مرکز کا ایک نیا بلند ترین مقام بنا دے گا جو چھنگ دو۔چھونگ چھنگ اقتصادی حلقے کے اندر حقیقی معیشت کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو بااختیار بنانے اور اسے مزید تقویت دینے کا باعث بنے گا۔