بیجنگ :اردن ایشیا کے مغربی حصے اور عرب کے جزیرہ نما کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ تاریخی آثار سے مالا مال اس ملک کی معیشت میں سیاحت کا اہم کردار ہے۔ چین اور اردن کے درمیان سفارتی تعلقات اپریل 1977 میں قائم ہوئے، جبکہ 2015 میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی۔ اگست 2026 میں دونوں ممالک نے چین-اردن اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔عمر الرزاز 2018 سے 2020 تک اردن کے وزیر اعظم رہے۔ وہ کئی مرتبہ چین کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق چین کے دوروں کے دوران جس چیز نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جدیدیت اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت امتزاج ہے۔ ان کی نظر میں، اگر کوئی شخص خود چین کا دورہ نہ کرے تو آج کے چین کو حقیقی معنوں میں سمجھنا ممکن نہیں۔ چائنا میڈیا گروپ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں عمر الرزاز نے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں چین پہلے ہی اہم پیش رفت کر چکا ہے۔ رواں سال جولائی میں چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک کا اکیلا کام نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ عالمی تعاون کی سمفنی ہونی چاہیے”۔عمر الرزاز نے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ چار گلوبل انیشی ایٹوز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات دنیا میں امن اور بقائے باہمی کے فروغ کی سمت واضح کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں عالمی برادری کے ہر رکن کو مل کر مؤثر انتظامی فریم ورک تشکیل دینے، اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے اور اسے مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عالمی نظم و نسق کے بعض ایسے شعبے بھی ہیں جہاں خلا موجود ہے۔ ان شعبوں میں بین الاقوامی برادری مختلف تعاون کے ڈھانچے تشکیل دے سکتی ہے اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے عالمی چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے۔ موجودہ دور بے شمار چیلنجز سے بھرا ہوا ہے، تاہم انسانیت نے امید نہیں کھوئی۔ ان کے مطابق، مختلف اقدامات اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ذریعے عالمی رہنما ہمارے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر دنیا کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں۔