برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر

عالمی کثیرالجہتی کے رجحان کو روکا نہیں جا سکتا، شی

نئی دہلی :چینی صدر شی جن پھنگ نے نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سمٹ کے پہلے مرحلے کے اجلاس میں شرکت کی اور عہدِ حاضر کی ذمہ داریاں نبھائیں اور بہادری سے پیش رو قوت بنیں” کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ رواں سال برکس تعاون کے آغاز کی 20ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ گزشتہ 20 برسوں کے دوران برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے اور یہ دنیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے لئے تعاون کے سب سے زیادہ بااثر پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ برکس تعاون “گریٹر برکس تعاون” کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔شی جن پھنگ نے کہا کہ عالمی کثیرالجہتی کے رجحان کو روکا نہیں جا سکتا، برکس ممالک کو تاریخ کی درست سمت پر مضبوطی سے کھڑے رہتے ہوئے بین الاقوامی نظم و نسق کو زیادہ منصفانہ اور معقول سمت میں آگے بڑھانا چاہیے اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کو اختراعی ترقی کو فروغ دینے، امن و استحکام کو برقرار رکھنے، تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھنے کو آگے بڑھانے اور عالمی طرز حکمرانی میں بہتری لانے میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد اور تعاون ہمیشہ برکس تعاون کے لیے طاقت کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔ ہمیں اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے یکسانیت کی جستجو کے اصول پر کاربند رہنا چاہیے، ایک دوسرے کے بنیادی خدشات کا احترام کرنا چاہیے، بات چیت کے ذریعے باہمی مفاہمت کو فروغ دینا چاہیے اور اختلافات اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کرنا چاہیے، تاکہ برکس تعاون کی طویل مدتی اور مستحکم ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

برکس
Comments (0)
Add Comment