چین نے ہمیشہ چین-بھارت تعلقات کو تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے، چینی صدر

 

 نئی دہلی :(چائںا ڈیسک ) چینی صدر شی جن پھنگ سے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مختلف امور پر  گہرائی سے تبادلہ خیال کیا، اور چین اور بھارت کے شراکت دار بننے پر اہم اتفاق رائے حاصل کیا۔

اتوار کے روزصدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ چین نے ہمیشہ چین-بھارت تعلقات کو تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا اور فروغ دیا ہے۔ چین اور بھات کے قومی حالات مختلف ہیں لیکن فریقین اپنی اپنی برتریوں سے فائدہ اٹھا کرایک دوسرے کی کمیوں کودور کر سکتے ہیں اورباہمی حمایت کے ذریعے مشترکہ طور پرترقی کرتے ہوئے کامیابیوں کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔ صدر شی جن پھںگ نے چین- بھارت تعلقات کی مستحکم اور طویل المدتی ترقی کو فروغ دینے کے لئے چار نکاتی تجاویز بھی پیش کیں۔ پہلی، معروضی اور عقلی تزویراتی سمجھ بوجھ کے ذریعے ترقیاتی سمت کو درست کیا جائے۔ دوسری، تعاون اور جیت جیت کے تصور کے ذریعے باہمی کامیابی حاصل کی جائے۔ تیسری، باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے  مداخلت کو دورکیا جائے، دوطرفہ تعلقات اور سرحدی مسائل کی مربوط ترقی کوآگے بڑھایا جائے اور سرحدی علاقوں میں امن و امان کو برقراررکھا جائے۔ چوتھی، مکمل کھلےپن اور جامعیت پر مبنی کثیرالجہتی تعاون کے ذریعے انسانیت کے فائدے کے لیے کوششیں کی جائے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک اسٹریٹجک اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے۔ بھارت چین کو حریف کے بجائے شراکت داراور چین کی ترقی کو چیلنج کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھنے کے لیے تیار ہے۔ بھارت اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور چین کے ساتھ بھات کے تعلقات کی ترقی کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ تائیوان اورشی زانگ سے متعلق مسائل پر بھارت کی پالیسی اور موقف تبدیل نہیں ہوئے اور بھارت کسی بھی قوت کو اپنی سرزمین پر چین مخالف سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ مودی کا کہنا تھا کہ بھارت چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلے کو برقرار رکھنے، اسٹریٹجک مواصلات کو مضبوط بنانے، باہمی فائدہ مند تعاون کو فروغ دینے اور افرادی و ثقافتی تبادلوں کو بڑھانے کے لئے تیار ہے تاکہ دوطرفہ تعلقات کی ترقی کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔ انہوں نے برکس سمٹ کی میزبانی کی حمایت کرنے پر چین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارت  آئندہ  سال چین کی برکس صدارت کی مکمل حمایت کرےگا۔ بھارت چین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے مشترکہ طور پر گلوبل ساؤتھ کے درمیان تعاون، عالمی کثیر قطبی اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور ہنگامہ خیز دنیا میں ایک مستحکم اور ترقی پسند قوت کے طور پراپنا کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

بھارت
Comments (0)
Add Comment