نئے عہد کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیش رو قوت بنیں اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھائیں، چینی صدر

نئی دہلی :چینی صدر شی جن پھنگ نے نئی دہلی میں برکس ممالک کے رہنماؤں کی 18ویں ملاقات کے پہلے مرحلے میں شرکت کی اور حاضر کی ذمہ داریاں نبھائیں اور بہادری سے پیش رو قوت بنیں” کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔ انہوں نے گزشتہ 20 برسوں کے دوران برکس ممالک کی خود انحصاری،مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور شاندار کامیابیوں کا جامع جائزہ پیش کیا اور واضح طور پر”چار رہنما اقدار” اپنانے کی اہم تجویز پیش کی، جسے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے سراہا اور عالمی سطح پر بھی اس پر مثبت ردِعمل سامنے آیا۔صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کیے گئے “چار رہنما اقدار” کی واضح عملی اور مستقبل کے لیے بھی خاص اہمیت ہے۔اختراعی ترقی میں پیش رو قوت بننے کا مطلب یہ ہے کہ برکس ممالک کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی صنعت کاری کے اقدام کو عملی شکل دینا اور اختراعی فوائد کو تمام ممالک کی مشترکہ ترقی کے لیے نئی قوت میں تبدیل کرنا ہے۔امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے رہنما اقدار کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ، تعاون پر مبنی، جامع اور پائیدار سیکورٹی کے نظریہ کو اپنانا اور خطے کے تنازعات کے حل کے لیے بنیادی اسباب کا تدارک کرنا ہے۔ تہذیبوں کے درمیان باہمی سیکھ کو آگے بڑھانے کا مطلب ، انسانیت کے مشترکہ اقدار اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے اور عالمی طرز حکمرانی میں بہتری لانے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے وقار کا مضبوطی سے تحفظ اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی عالمی سطح پر آواز کو مزید مؤثر بنانا ہے۔صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ رہنما اقدار” میں اہم رہنمائی مضمر ہے۔ اتحاد اور تعاون ہمیشہ برکس تعاون کے ڈھانچے کی ترقی کی طاقت کا ذریعہ رہے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری اور باہمی احترام کے ساتھ بات چیت کریں، اختلافات کو قبول کریں، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا احترام کریں اور مکالمے کے ذریعے باہمی مفاہمت کو فروغ دیں اور تنازعات کو مناسب طریقے سے حل کریں تو برکس کا تعاون پائیدار اور مضبوط طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment