بقلم: محمد نوید چوہدری
قسط:اول
آزاد کشمیر کی سیاست میں بعض سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ بنتی ہیں، کچھ حالات کے ہاتھوں ابھرتی ہیں اور کچھ شخصیات اپنی سیاسی بصیرت، تنظیمی صلاحیت اور عوامی رابطے کے ذریعے ایک نئے سیاسی سفر کی بنیاد رکھتی ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر بھی اسی سیاسی منظرنامے میں ایک ایسی قوت کے طور پر سامنے آئی ہے جس کے مرکزی کرداروں میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
شعبہ صحافت میں مجھے ڈیڑھ دہائی ہو چکی ہے اور کئی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں بنتی اور ٹوٹتی دیکھی ہیں، آزادکشمیر میں انتہائی مشکل حالات میں اگر مضبوط اعصاب اور سیاسی بصیرت اور تنظیمی صلاحیتوں والا اگر کوئی میں نے دیکھا ہے تو وہ سردار تنویر الیاس خان ہیں۔
آج قارئین کی دلچسپی کیلئے کچھ انکشافات اور حقائق منظر عام پر لا رہا ہوں۔ جب سردار تنویر الیاس خان نے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت سنبھالی تو آزاد کشمیر میں انتخابات کا بگل بج چکا تھا اور سیاسی جماعتوں کے پاس تنظیم سازی اور انتخابی صف بندی کے لیے طویل وقت موجود نہیں تھا۔ 36 گھنٹے کے مختصر ترین وقت میں سردار تنویر الیاس خان نے اپنی سیاسی اور تنظیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آزاد کشمیر کے جنرل اور مہاجرین سمیت تقریباً تمام انتخابی حلقوں کے لیے پارٹی امیدوار میدان میں اتارے۔
یہ محض ٹکٹوں کی تقسیم نہیں تھی بلکہ ان امیدواروں کا انتخاب بھی سیاسی وزن رکھتا تھا۔ پارٹی کے ٹکٹ پر آنے والی متعدد شخصیات ماضی میں اور گزشتہ اسمبلی میں آزاد کشمیر اسمبلی کا حصہ رہ چکی تھیں اور وزارتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکی تھیں۔ سردار تنویر الیاس خان خود گزشتہ اسمبلی میں وزیراعظم کے عہدے پر رہ چکے تھے اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے صدر کے طور پر زمہ داریاں ادا کر چکے تھے بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف 2016ء سے 2021ء کی اسمبلی میں معمولی نمائندگی رکھتی تھی جب سردار تنویر الیاس خان اس پارٹی میں شامل ہوئے تو انہوں نے اس پارٹی کو دو تہائی اکثریت سے حکومت بنوا دی تھی۔
استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر میں سردار تنویر الیاس خان کی قیادت میں انتخابات سے چند دن قبل قائم کی گئی تھی، یوں ایک نسبتاً نئی سیاسی جماعت نے تجربہ کار اور اپنے اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے سیاسی چہروں کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
آزاد کشمیر کے سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی و سینیٹ کی طرز پر یہاں آزاد کشمیر میں قانون سازی کا نظام آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل پر مشتمل ہے۔ کشمیر کونسل میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کی نمائندگی ممبر کشمیر کونسل سردار عدنان سیاب خالد کی صورت میں موجود ہے۔سردار عدنان سیاب خالد محض ایک ممبر کشمیر کونسل کا نام نہیں بلکہ پونچھ کے ایک مضبوط سیاسی خانوادے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے والد، ممتاز اور سینئر پارلیمنٹیرین سردار سیاب خالد، آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک معتبر نام رہے۔
سردار سیاب خالد دو مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے اسپیکر، تین مرتبہ وزیر اور طویل عرصے تک پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے سردار سیاب خالد سیاسی فہم و فراست اور عوامی مقبولیت کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔
سردار عدنان سیاب خالد کا کشمیر کونسل تک پہنچنا بھی ان کے سیاسی وزن کا مظہر تھا۔ سردار سیاب خالد کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشست پر، جب سردار تنویر الیاس خان آزاد کشمیر کے وزیراعظم تھے، سردار عدنان سیاب خالد ممبر کشمیر کونسل کیلئے خود نامزد کیا ، سردار عدنان سیاب خالد نے 29 ارکان اسمبلی کے ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی نے بھی واضح کیا کہ یہ خاندان آزاد کشمیر کی پارلیمانی سیاست میں کس قدر مضبوط جڑیں رکھتا ہے۔
انتخابات سے قبل جب سردار تنویر الیاس خان استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوئے تو اس وقت سردار عدنان سیاب خالد بھی ان کے ساتھ استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہو گئے تھے یوں سردار عدنان سیاب خالد کی صورت میں استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر کی پارلیمان کا بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح استحکام پاکستان پارٹی وفاق اور پنجاب سمیت گلگت بلتستان میں بھی پارلیمانی جماعت ہے اور ان حکومتوں میں اس جماعت کی نمائندگی بھرپور انداز میں موجود ہے ۔
نئی جماعت، پرانے سیاسی قدآور
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے سفر کی ایک اہم خصوصیت یہ رہی کہ اس کے ساتھ ایسے سیاسی رہنما بھی کھڑے ہوئے جنہیں اپنے اپنے حلقوں میں برسوں کی سیاسی جدوجہد اور عوامی رابطے کا تجربہ حاصل تھا۔ سابق وزیر حکومت چوہدری علی شان سونی ان نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔ وہ اپنے حلقہ سماہنی سے متعدد مرتبہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھاری مارجن سے کامیاب ہوتے رہے، طویل عرصے تک آزاد کشمیر کی اسمبلی کا حصہ رہے اور آخری دور میں وزیر زراعت کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔ تقریباً ربع صدی پر محیط ان کا سیاسی سفر ان کے انتخابی اثر و رسوخ کی واضح علامت ہے۔
اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر صحت ڈاکٹر نثار انصر ابدالی بھی اپنے حلقہ انتخاب کھوئی رٹہ میں مضبوط سیاسی حیثیت رکھنے والے اہم ترین رہنما ہیں۔ کوٹلی سٹی سے ملک محمد یوسف ایڈووکیٹ بھی ایسے امیدواروں میں شمار ہوتے رہے ہیں جو متعدد انتخابات میں 25 سے 30 ہزار کے لگ بھگ ووٹ حاصل کرتے ہوئے اپنے حلقے میں مضبوط انتخابی بنیاد رکھتے تھے۔حلقہ سہنسہ سے راجہ طالب حسین کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جہاں راجپوت برادری کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ سیاسی طور پر کھڑی رہی اور دیگر کئی آزاد امیدواروں کی بھی ان کو حمایت حاصل تھی۔۔
مظفرآباد کے حلقے سے سردار تبارک بھی مضبوط امیدواروں میں شمار ہوتے تھے، جو انتخابی نتائج کے مطابق چند سو ووٹوں کے معمولی فرق سے انتخابی مقابلے سے باہر ہوئے لیکن اگر صاف و شفاف انتخاب ہوتے تو سردار تبارک واضح مارجن سے یہ سیٹ جیتے ہوئے ہیں۔ حلقہ چکسواری سے ریٹائرڈ کرنل محمد معروف بھی انتہائی موثر و مضبوط امیدوار تھے۔ اسی طرح مظفرآباد حلقہ کھاوڑہ سے بڑی سیاسی فیملی سینئر پارلیمنٹیرین راجہ عبد القیوم خان کے بیٹے راجہ مظہر قیوم بھی استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار تھے۔
استحکام پاکستان پارٹی کے انتخابی سفر میں سابق وزیر حکومت طاہر کھوکھر اور سابق وزیر و ڈپٹی اسپیکر سلیم بٹ جیسے تجربہ کار رہنماؤں کی موجودگی بھی سیاسی اہمیت رکھتی ہے۔ طاہر کھوکھر تین مرتبہ اسمبلی کے رکن رہے، جبکہ سلیم بٹ دو مرتبہ وزیر اور ایک مرتبہ ڈپٹی اسپیکر کے منصب پر فائز رہے۔ مہاجرین کی راولپنڈی کی نشست سے حمزہ مجید بزمی جیسے متحرک اور تجربہ کار سیاسی رہنماء میدان میں موجود تھے، رابطہ کاری اور سیاسی سوجھ بوجھ میں حمزہ مجید بزمی کا ان کے مد مقابل امیدواروں سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ جموں دو سے عبد القدیر گجر ایک ایسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جو اس سیٹ پر بھاری مارجن سے انتخابات جیتتا رہا ہے ۔
یہ تمام نام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر نے محض نئی جماعت کا نعرہ نہیں لگایا بلکہ ایسے سیاسی کرداروں کو اپنے ساتھ جمع کیا جن کے پیچھے برسوں کی انتخابی سیاست، عوامی رابطہ اور پارلیمانی تجربہ موجود تھا۔
سردار تنویر الیاس خان، مرکزی کردار
اس پورے سیاسی منظرنامے میں اگر کسی ایک شخصیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے تو وہ سردار تنویر الیاس خان ہیں۔ سردار تنویر الیاس خان کا سیاسی سفر محض وزارتِ عظمیٰ تک محدود نہیں رہا۔ ان کے دور حکومت کا سب سے نمایاں حوالہ آزاد کشمیر میں طویل وقفے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی ہے۔ ان کے حامی آج بھی ان کے دور میں شروع کیے گئے ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کو ان کی سیاسی کارکردگی کا حوالہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی حامیوں کا خیال ہے کہ اگر سردار تنویر الیاس خان کسی بھی انتخابی حلقے سے براہِ راست انتخاب لڑتے تو ان کی عوامی مقبولیت انہیں مضبوط امیدوار بناتی ہے۔ ان کے سیاسی مخالفین بھی اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ سردار تنویر الیاس خان کی سیاسی موجودگی آزاد کشمیر کے انتخابی منظرنامے کو کس بھی وقت متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقے، اصل امتحان ابھی باقی
آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی منظرنامے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ پونچھ اور سدھنوتی کے سات انتخابی حلقوں میں انتخابات ابھی منعقد ہونا باقی ہیں۔ یہی سات حلقے آنے والے دنوں میں سیاسی نقشے کی سمت متعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان حلقوں میں استحکام پاکستان پارٹی کے پاس بھی ایسے امیدوار موجود ہیں جنہیں سیاسی طور پر نظرانداز کرنا آسان نہیں۔حلقہ پلندری سے سردار رئیس انقلابی، حلقہ بلوچ سے سردار عنایت اللہ عارف اور حلقہ پاچھیوٹ سے خود سردار تنویر الیاس خان۔مد مقابل امیدواروں میں سب سے نمایاں اور انتہائی مضبوط امیدوار ہیں۔
خصوصاً پاچھیوٹ کی نشست سردار تنویر الیاس خان با آسانی جیت جائیں گے اس طرح آزاد کشمیر اسمبلی میں اس جماعت کا پارلیمانی وزن نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آنے والے نتائج محض چند نشستوں کا اضافہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی آئندہ سیاسی صف بندی کا تعین کرسکتے ہیں۔یہ تمام سیاسی ٹیم ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر نے اپنی سیاسی شناخت ایسے افراد کے ذریعے بنانے کی کوشش کی جن کے پاس سیاسی تجربہ، انتخابی پس منظر اور عوامی رابطے کا سرمایہ پہلے سے موجود تھا۔
دھاندلی کا سوال اور سیاسی تضاد
البتہ اس پورے انتخابی عمل کا ایک تلخ اور اہم پہلو بھی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے متعدد قدآور امیدواروں کو مسلم لیگ ن کی طرف سے انتخابی دھاندلی اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے شکست سے دوچار کیا گیا۔ استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے امیدوار بھی دھاندلی کی شکایات سامنے لائے ہیں، استحکام پاکستان پارٹی کے متعدد مضبوط امیدوار انتخابی نتائج پر جو سوالات اٹھائیں وہ سوالات بہرحال سیاسی اور جمہوری سطح پر زیرِ بحث آنے ضروری ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور سیاسی تضاد بھی قابلِ غور ہے کہ مرکز میں مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی اتحادی سیاسی قوتیں ہیں، لیکن آزاد کشمیر میں انتخابی سیاست نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا۔ اگر اتحادی جماعتیں مرکز میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوں اور کسی دوسرے خطے میں انتخابی مفادات کے باعث باہم متصادم دکھائی دیں تو اس تضاد پر سوال اٹھنا ایک فطری سیاسی عمل ہے۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدواروں کو مکمل سیاسی میدان میسر آتا تو جماعت کا پارلیمانی حجم کہیں زیادہ ہوتا۔
اسمبلی سے باہر نہیں، مزید اندر آتی ہوئی جماعت
اس تمام سیاسی کشمکش کے باوجود استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کا سیاسی وجود ختم نہیں ہوا۔ بلکہ صورت حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔کشمیر کونسل میں سردار عدنان سیاب خالد کی موجودگی جماعت کو پارلیمانی تسلسل فراہم کرتی ہے، جبکہ پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں باقی انتخابات اس جماعت کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھول رہے ہیں۔سردار تنویر الیاس خان پاچھیوٹ سے کامیاب ہو جائیں گے، اگر استحکام پاکستان پارٹی دیگر حلقوں میں بھی متعدد نشستیں حاصل کرتی ہے تو یہ جماعت آزاد کشمیر اسمبلی میں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پارلیمانی قوت کے طور پر سامنے آسکتی ہے اور شاید یہی وہ نکتہ ہے جسے آزاد کشمیر کی روایتی دو یا چند جماعتوں کی سیاست میں نظرانداز کرنا اب آسان نہیں رہا۔
تیسری بڑی سیاسی قوت؟
استحکام پاکستان پارٹی اب صرف ایک انتخابی تجربہ نہیں رہی۔ مرکز میں چیئرمین و وفاقی وزیر علیم خان اور آزاد کشمیر میں سابق وزیراعظم و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان کی قیادت نے اس جماعت کو ایک ایسے سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا ہے جسے آزاد کشمیر کے تناظر میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے ساتھ تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔
اس جماعت کی سب سے بڑی طاقت صرف اس کے موجودہ اراکین اسمبلی یا امیدوار نہیں بلکہ وہ سیاسی کارکن اور عام شہری بھی ہیں جو مختلف حلقوں میں اس کے ساتھ جڑ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد کا پارٹی کا حصہ بننا اس بات کا اشارہ ہے کہ سردار تنویر الیاس خان کے گرد ایک نیا سیاسی قافلہ تشکیل پا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں سیاسی جماعتیں بنتی اور ٹوٹتی رہی ہیں، وفاداریاں تبدیل ہوتی رہی ہیں اور اقتدار کے موسم کے ساتھ سیاسی ہوائیں بھی رخ بدلتی رہی ہیں۔ مگر اس مرتبہ معاملہ قدرے مختلف دکھائی دیتا ہے۔
ایک طرف روایتی سیاسی جماعتیں اپنے پرانے انتخابی قلعوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں، دوسری طرف سردار تنویر الیاس خان ایک نسبتاً نئے سیاسی پلیٹ فارم کو تجربہ کار سیاسی چہروں، نئے کارکنوں اور آنے والے سات انتخابی حلقوں کے امکانات کے ساتھ آگے بڑھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کی سیاست میں کس توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پونچھ اور سدھنوتی کے سات حلقوں کے انتخاب کے بعد یہ جماعت آزاد کشمیر کی اسمبلی میں کتنی مضبوط ہو کر داخل ہوتی ہے؟
اگر پاچھیوٹ سمیت متعدد نشستیں استحکام پاکستان پارٹی کے حصے میں آتی ہیں تو پھر آزاد کشمیر کی سیاست میں طاقت کا روایتی توازن صرف ہلے گا نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ اس کا نیا نقشہ بننا شروع ہوجائے اور اس نئے نقشے کے مرکز میں ایک نام نمایاں دکھائی دیتا ہے، وہ ہے سردار تنویر الیاس خان۔