تہران(پی این پی)ایران نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئے امریکی اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اینتھروپک کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران سے منسلک ایک گروپ نے فوجی نقشے اور سیٹلائٹ تصاویر جمع کیں اور جہازوں کے مواصلاتی نظام کی کمزوریاں معلوم کرنے کی کوشش کی۔رپورٹ کے مطابق یہ معلومات مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈل کلاڈ کی مدد سے اکٹھی کی جا رہی تھی تاہم اینتھروپک نے اس سرگرمی کا سراغ لگانے کے بعد اسے ڈیفیوز کر دیا۔کمپنی نے اس حوالے سے ایسی دیگر سرگرمیوں اور خطرات پر مشتمل رپورٹ جاری کر دی۔ ممکنہ خطرات میں میزائلوں کی تیاری، نفسیاتی جنگ اور مخالفین کی جاسوسی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 550سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے جن میں آیت اللہ خامنہ ای، ان کے اہل خانہ اور اعلی دفاعی افسران و کمانڈرز شامل ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس نہایت درستگی کے ساتھ کیے گئے حملے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے استعمال کا انکشاف سامنے آیا ہے۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاڈ کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاریخیکتابیں دریافت کریں۔
پی این پی