جب اے آئی دنیا کو “لکھنے” لگے: ہم ایک بےآواز علمی جنگ کے سامنے کھڑے ہیں

 

بیجنگ :امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک نے 154 صفحات پر مشتمل رپورٹ “اے آئی کے غلط استعمال کا سراغ لگانا اور اس کا مقابلہ کرنا ” جاری کی۔ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کے بارے میں اس رپورٹ میں جو منظرنامہ پیش کیا گیا ہے، اس کے مطابق اے آئی پہلے ہی سائبر حملوں، اثرانداز ہونے کی کارروائیوں، نگرانی، حیاتیاتی تحقیق، دھوکا دہی اور انسانی سوچ و فہم پر اثرانداز ہونے سمیت متعدد شعبوں میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے میں اگر یہ سادہ سا تصور کیا جائے کہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے انسان مصنوعی ذہانت کے لیے اصول، حدود اور حتیٰ کہ اخلاقی پابندیاں مقرر کر سکتا ہے تو ایک حقیقی مشکل سامنے آتی ہے: اے آئی کس کی بات مانے گی؟ اے آئی کا مشن، وژن، اقدار اور حتیٰ کہ قومیت کیا ہوگی؟ ماضی میں پہلے ٹیکنالوجی وجود میں آتی تھی اور پھر معاشرہ اس کے استعمال پر بحث کرتا تھا، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی اپنی صلاحیتیں جاری کرنے سے پہلے ہی ہمیں طے کرنا ہوگا کہ کون سی صلاحیتیں جاری کی جا سکتی ہیں اور انہیں کس طرح استعمال کیا جائے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اے آئی انقلاب کو سابقہ بھاپ کے انجن اور انٹرنیٹ کے انقلابات سے ممتاز کرتا ہے۔اگر اے آئی پاکستانیوں کو بتائے کہ سیاچن گلیشیئر بھارت کا حصہ ہے، اگر اے آئی فلسطینیوں کو بتائے کہ یروشلم اسرائیل کا حصہ ہے، اگر اے آئی امریکیوں کو بتائے کہ “مےفلاور”نامی کشتی کا کوئی وجود ہی نہیں تھا، یا اگر اے آئی چینی عوام کو بتائے کہ تائیوان ایک ملک ہے، تو کیا ہوگا؟ بری خبر یہ ہے کہ یہ محض ایک مفروضہ بھی نہیں ہو سکتا۔آج جب اربوں لوگ چیٹ جی پی ٹی جیسے بڑے اے آئی ماڈلز سے دنیا کے بارے میں “پوچھنے” کے عادی ہو رہے ہیں تو ایک تلخ حقیقت ہمارے سامنے ہے: اب آپ کو ملنے والے جواب کا تعین صرف نیوز روم کا ایڈیٹر نہیں کرتا، بلکہ ٹریننگ ڈیٹا میں معلومات کے وزن، معلومات تلاش کرنے والے الگورتھم کی ترجیحات اور سب سے بڑھ کر ان بعض سیاسی مؤقفوں سے بھی ہوتا ہے جنہیں خاموشی سے علم کے ذخیرے میں “فیڈ ” کیا گیا ہو۔یہ کسی سائنس فکشن ناول کی کہانی نہیں۔ جاپان کی تاکائچی حکومت نے سرکاری امور کے لیے” گین نائی “نامی بڑے اے آئی ماڈل کی تیاری پر 4.4 ارب ین خرچ کیے ہیں۔ اس کے تربیتی ڈیٹا میں تائیوان کے بارے میں غلط بیانی، دیاؤیو جزائر پر غیر قانونی دعوے اور جارحیت کی جنگ کو کم تر دکھانے یا حتیٰ کہ اس کی خوبیاں بیان کرنے والا زہریلا” مواد موجود ہے۔یہ ” جاپانی سرکاری ” لیبل لگا ہوا غلط ماڈل مستقبل میں عالمی اے آئی نظاموں کے باہمی استفادے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کے ذریعے علمی وائرس کی طرح پھیل کر مصنوعی ذہانت کے دور میں عام فہم کی بنیاد کو آلودہ کر سکتا ہے۔ ہم انسانی تاریخ میں خاموش مگر گہری ایک ایسی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس میں معلومات اور بیانیے پر اختیار کی نوعیت بدل رہی ہے۔ماضی میں بین الاقوامی ابلاغ کی مسابقت کا سوال یہ تھا کہ”کس کی آواز زیادہ بلند ہے”، مثلاً کس کے پاس زیادہ ذرائع ابلاغ ہیں، کس کی رپورٹنگ زیادہ وسیع ہے اور کس کا بیانیہ زیادہ مؤثر ہے۔ اب کھیل کے اصول بدل گئے ہیں۔ بڑے اے آئی ماڈلز روایتی معلوماتی اداروں کی ترتیب اور ایڈیٹنگ پر پہلے کی طرح انحصار نہیں کرتے۔ نئی طاقت کا مرکز معلومات کی تلاش میں دی جانے والی ترجیح اور جواب تیار ہونے کے امکانات بن گئے ہیں: آپ کے ذرائع کو کتنی آسانی سے استعمال کیا جاتا ہے، آپ کا بیانیہ ماڈل کے الگورتھم کی ترجیحات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے اور کیا آپ اپنا مؤقف براہِ راست اے آئی کے “ابتدائی علمی ماحول” میں داخل کر سکتے ہیں۔ایک ایسے امکان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ کسی ملک کی سرکاری دستاویزات کو اے آئی ایک بار سیکھے، پھر اے آئی ان کی بنیاد پر نئی پالیسی تشریحات تیار کرے اور اس کے بعد اے آئی کی ایک دوسری کھیپ ان تشریحات سے سیکھے۔ یہ عمل کئی مرتبہ دہرائے جانے کے بعد کسی ایک بیانیے کو اے آئی نظام میں زیادہ سے زیادہ مستند بنا سکتا ہے اور اس کا وزن بڑھتا جاتا ہے۔ یہ عمل بذاتِ خود برا نہیں، اگر سمت درست ہو تو اس کے ذریعے درست مؤقف مسلسل مضبوط ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر سمت غلط ہو تو غلطی بھی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔یہ قومی علمی خودمختاری کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جو اپنے حقائق، تجربات اور بیانیے کو عالمی اے آئی کے علمی ڈھانچے میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگا، وہ اس نئی طاقت تک رسائی حاصل کرے گا جو یہ طے کرتی ہے کہ “حقیقت کیا ہے”۔ اس کے برعکس اگر آپ کی تاریخ کو نظر انداز کیا جائے، آپ کے مؤقف کو کم وزن دیا جائے اور آپ کی آواز کو الگورتھم کے ذریعے حاشیے پر دھکیل دیا جائے تو آنے والی کئی نسلوں کے شعور میں ممکن ہے کہ “آپ کا ملک” واقعی “موجود ہی نہ ہو”۔تو پھر اے آئی کے دور میں اس علمی جنگ کا سامنا کرتے ہوئے عالمی برادری کو کیا کرنا چاہیے؟سب سے پہلے، عالمی اے آئی تربیتی ڈیٹا کے لیے “حقائق کے آڈٹ” کا نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ جس طرح خوراک کے تحفظ کے لیے جانچ کے معیارات درکار ہوتے ہیں، اسی طرح اے آئی کے علمی ذخیرے کے لیے بھی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کی جانچ کا ایک نظام ہونا چاہیے۔ بالخصوص علاقائی خودمختاری، تاریخی بیانیے اور جنگی ذمہ داری جیسے بنیادی حقائق میں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ تربیتی ڈیٹا منظم انداز میں غلط سیاسی مؤقف کی طرف جھکا ہوا نہ ہو۔دوسرا، عالمی برادری کو اے آئی میں علمی تنوع کے لیے کثیرالجہتی طرزِ حکمرانی کا فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔ دنیا کے اربوں لوگوں کے علمی ماحول پر چند ٹیکنالوجی کمپنیوں اور چند ممالک کی اقدار کو اجارہ داری قائم نہیں کرنے دینی چاہیے۔ اقوام متحدہ اور یونیسکو جیسے عالمی اداروں کو “اے آئی کے علمی ماحول میں انصاف اور مساوات” کو عالمی ڈیجیٹل گورننس کے ایجنڈے کا حصہ بنانا چاہیے۔تیسرا، تمام ممالک کی حکومتوں کو اپنے عوامی ڈیٹا کو “اے آئی کے لیے موزوں” بنانے کا عمل شروع کرنا چاہیے۔ سرکاری ڈیٹا بیس کو معیاری اور کھلا بنایا جائے تاکہ بڑے اے آئی ماڈلز مستند ذرائع سے درست معلومات حاصل کر سکیں اور ان کا حوالہ دے سکیں، بجائے اس کے کہ وہ” زہریلی” معلومات کا شکار ہو جائیں۔ یہ محض کوئی تکنیکی معاملہ نہیں بلکہ علمی تحفظ کی پہلی دفاعی دیوار ہے۔ہر ملک کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اے آئی دور میں علمی بنیادی ڈھانچہ ہی قومی سلامتی کا بنیادی ڈھانچہ ہے۔ اپنے اختیار میں ایک ایسا قومی علمی نظام تشکیل دینا جو قابلِ اعتماد اور خودمختار ہو، اس امر سے جڑا ہوا ہے کہ اے آئی کے دور میں کسی ملک کا قومی بیانیہ “زندہ” رہ سکے گا یا نہیں۔جب اے آئی انسانی دنیا کے ادراک میں ایک “واسطہ” بن جائے گی تو ڈیجیٹل دنیا کا علمی ماحول پوری انسانیت کی مشترکہ فکری بنیاد ہوگا۔ اس بنیاد کو محفوظ رکھنا اور اسے کسی بھی غلط سیاسی مؤقف سے “آلودہ” ہونے سے بچانا ہماری نسل کی ناگزیر  تاریخی ذمہ داری  ہے۔

اے آئی
Comments (0)
Add Comment