ایرانی اسلامی انقلابی گارڈز نے کہا کہ ایران نے اسی روز آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی فوج کا ایک ایم کیو۔1 ڈرون مار گرایا، اور دعویٰ کیا کہ یہ اسی نوعیت کا تیسرا ڈرون ہے جسے اس روز نشانہ بنایا گیا۔
امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر نے بتایا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی چھ ماہ سے جاری جنگ پر اب تک 38 ارب امریکی ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ توقع ہے کہ ہر ماہ مزید 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔ امریکی حکومت کے مختلف اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نہ صرف امریکہ کے لیے بھاری اخراجات کا باعث بن رہی ہے بلکہ اسے جدید ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کے دفتر نے 14 ستمبر کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے اثرات سے متعلق اپنی پہلی نگرانی رپورٹ جاری کی، جس میں امریکی فوج کے جدید ہتھیاروں کے حوالے سے “اسٹریٹجک ذخائر میں کمی” کا اعتراف کیا گیا۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی روز کاروبار کے اختتام تک نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج میں اکتوبر میں ترسیل کے لیے لائٹ کروڈ آئل کے فیوچرز کی قیمت میں 4.44 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی وزیر داخلہ ڈوگ برگم نے 14 ستمبر کو کہا کہ اگر امریکہ تیل یا ایندھن کی برآمد پر پابندی بھی عائد کر دے تو بھی ملک میں تیل کی بلند قیمتوں کی صورتحال کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔
چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت بظاہر تیل کی قیمتوں کے معاملے پر “ٹھنڈا ردِعمل” اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حقیقی معنوں میں مؤثر حل موجود نہیں ہے۔