چین پاکستان مشترکہ تربیتی مرکز پاکستان میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے شعبے کے لیے ہنرمند افراد کی تیاری میں کوشاں

چھانگ شا (شِنہوا) پاکستان میں اٹلس ہونڈا کمپنی لمیٹڈ کے شعبہ تحقیق و ترقی سے وابستہ مریم افتخار گزشتہ 6 برس سے گاڑیوں کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ اپنے ملک میں گاڑیوں کی برقی منتقلی کی لہر تیزی سے پھیلتی دیکھ کر انہوں نے پاکستان میں نئی توانائی کی ٹیکنالوجی کے ماہر افرادی قوت کی کمی کو شدت سے محسوس کیا۔چین پاکستان نئی توانائی والی گاڑیوں کے اعلیٰ ہنرمند افرادی قوت کے تربیتی مرکز برائے مہارت میں تربیت حاصل کرنے والوں میں وہ واحد خاتون ہیں اور اس تربیت سے انہیں بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے کہ اس تربیت کے ذریعے میں چین کی نئی توانائی والی گاڑیوں سے متعلق جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں سیکھ سکوں گی، مقامی صنعتوں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکوں گی اور پاکستان کے شعبہ نقل و حمل کو ماحول دوست تبدیلی کی جانب گامزن کرنے میں مدد دے سکوں گی۔یہ خواہش پاکستان کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی صنعت کی موجودہ ترقی کی ایک جھلک ہے۔ ہنرمند افرادی قوت کی کمی دور کرنے اور ماحول دوست صنعتوں میں چین پاکستان تعاون کو مزید گہرا کرنے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے چین کی ہونان آٹو موٹو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی کی قیادت میں چین- پاکستان نئی توانائی کی گاڑیوں کے اعلیٰ ہنرمند افرادی قوت کے تربیتی مرکز برائے مہارت کا رواں سال 12 مئی کو اسلام آباد نیشنل سنٹر آف ایکسی لینس میں افتتاح کیا گیا۔ آغاز کے فوراً بعد اس منصوبے نے مقامی نوجوانوں میں بھرپور دلچسپی پیدا کی اور 172 افراد نے تربیت کے لئے درخواستیں دیں۔ ان میں ایسوسی ایٹ ڈگری سے لے کر ماسٹر ڈگری رکھنے والے افراد کے علاوہ صنعتی اداروں کے انجینئرز، پیشہ ورانہ تربیت دینے والے اساتذہ، فرنٹ لائن ٹیکنیشنز اور حال ہی میں فارغ التحصیل ہونے والے نوجوان شامل ہیں۔مریم افتخار کی طرح فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے داؤد عبداللہ بھی تربیت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ مکینیکل انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری اور آٹو موٹو صنعت میں 6 سالہ تجربے کے حامل داؤد نے برقی گاڑیوں سے متعلق کورسز بھی اپنی مدد آپ کے تحت سیکھے ہیں۔ اب وہ ورکشاپ میں ’’انٹرنیشنل کلاؤڈ سکول‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے چینی اساتذہ سے آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایس اے آئی سی، ایم جی کی پاکستان فیکٹری کے ٹیکنیشنز کی موقع پر موجود رہنمائی میں بیٹری ٹیسٹنگ اور موٹر کی دیکھ بھال جیسی عملی مہارتوں کی بار بار مشق بھی کر رہے ہیں۔ہونان آٹو موٹو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی کے دفتر برائے تعلیمی امور کے نائب ڈائریکٹر چھن بیاؤ نے بتایا کہ پاکستانی تربیت حاصل کرنے والوں کی درخواستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی برسوں کا تجربہ رکھنے والے ماہر ٹیکنیشنز سے لے کر حال ہی میں تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے نوجوانوں تک، سب پاکستان کی نئی توانائی کی صنعت میں جاری تبدیلی کے پیش کردہ مواقع سے فائدہ اٹھانے اور منظم تربیت کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں کو مزید نکھارنے کے خواہاں ہیں۔پاکستان فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے اپنی آٹو موبائل صنعت کو برقی بنانے کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ نئی توانائی والی گاڑیوں (این ای وی) کی پالیسی 2025-30میں ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک موٹر سائیکلوں، رکشوں، مسافر گاڑیوں، ہلکی کمرشل گاڑیوں، بسوں اور ٹرکوں کی نئی فروخت میں 30 فیصد کو نئی توانائی والی گاڑیوں میں تبدیل کیا جائے۔ پالیسی میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کے ساتھ ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کی مقامی پیداوار کو فروغ دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے انڈیجینس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ایجنسی سے وابستہ شکیل ارشد نے کہا کہ نئی توانائی والی گاڑیوں کی تیاری پاکستان کی آٹو موٹو صنعت کی مستقبل کی سمت ہے۔ چیری اور بی وائی ڈی جیسے چینی آٹو ساز اداروں کو نئی توانائی والی گاڑیوں کی تحقیق و ترقی اور پیداوار کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جو پاکستانی مارکیٹ کی عین ضرورت ہے۔ان بلند صنعتی اہداف کے پس منظر میں ہنرمند افرادی قوت کی ناکافی فراہمی ایک ایسا عملی مسئلہ بن چکی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے وزیر احسن اقبال نے چین پاکستان تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) سیمپوزیم میں کہا کہ بیٹری سیل کی تیاری اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز سے لے کر ری سائیکلنگ اور فروخت کے بعد خدمات تک پورے صنعتی سلسلے کے ہر مرحلے کے لئے ہنرمند افرادی قوت درکار ہے، تاہم پاکستان میں اس افرادی قوت کو خود تیار کرنے کی صلاحیت فی الحال موجود نہیں۔مارکیٹ میں طلب میں مسلسل اضافے نے ہنرمند افرادی قوت کی کمی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پیما) کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت 39 فیصد اضافے کے ساتھ 155,631 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی اور اگست میں فروخت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 80 فیصد بڑھ گئی۔چھن بیاؤ نے کہا کہ پاکستان کی نئی گاڑیوں کی مارکیٹ میں طلب مضبوط ہے اور ’’گاڑیاں تو ہیں لیکن دیکھ بھال کرنے والا عملہ نہیں، پیداوار تو ہے لیکن ہنرمند افرادی قوت کی کمی ہے‘‘ کا تضاد تیزی سے نمایاں ہو رہا ہے۔اس پس منظر میں چین پاکستان نئی توانائی والی گاڑیوں کے اعلیٰ ہنرمند افرادی قوت کے تربیتی مرکز برائے مہارت سے توقع ہے کہ پاکستان میں نئی توانائی والی گاڑیوں سے متعلق خصوصی مہارتوں کے تربیتی نظام میں موجود خلا کو پر کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے اس منصوبے کو دونوں ممالک کے درمیان صنعت و تعلیم کے انضمام، تعلیمی اداروں اور کاروباری اداروں کے تعاون اور عوامی سطح پر رابطوں کے حوالے سے ایک ’’چھوٹا مگر موثر‘‘ مثالی منصوبہ قرار دیا۔تربیت حاصل کرنے والے افراد چینی اداروں سے آن لائن تھیوری کلاسز لیتے ہیں، جن میں نئی توانائی والی گاڑیوں کے کنٹرول سسٹم اور پاور بیٹری ٹیکنالوجی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایس اے آئی سی، ایم جی کی پاکستان فیکٹری کی تکنیکی ٹیم کی رہنمائی میں عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔کورسز کسی ایک ادارے کے بجائے چین کے نئی توانائی والی گاڑیوں سے متعلق پیشہ ورانہ تعلیم کے گروپ نے تیار کئے ہیں۔ ان میں بی وائی ڈی، چیری اور ایس اے آئی سی- ایم جی سمیت متعدد چینی آٹو ساز اداروں کے پیداوار، آپریشنز اور دیکھ بھال سے متعلق کیسز شامل کئے گئے ہیں، جبکہ عمومی اطلاق پذیری اور مخصوص کاروباری اداروں کی ضروریات کے مطابق تربیت کے درمیان توازن برقرار رکھا گیا ہے۔کم لاگت، قابل تقلید اور عملی نتائج پر مبنی طریقہ کار اپناتے ہوئے ایک تربیتی مرکز کے قیام کی لاگت صرف تقریباً 5 لاکھ سے 6 لاکھ یوآن (2 کروڑ 7لاکھ سے 2 کروڑ 48 لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔ صنعتی ضروریات کے مطابق اسے پاکستان کے مختلف صوبوں میں لچکدار انداز میں دہرایا اور فروغ دیا جا سکتا ہے۔عملی تربیت کی کلاس سے آگے بھی اس منصوبے کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل پاکستان میں اس منصوبے کی پائلٹ شراکت دار ہے۔ کونسل کی اعلیٰ انتظامیہ نے بتایا کہ تربیت کے بعد کونسل تربیت کے نتائج کو مقامی پیشہ ورانہ تعلیم کے موجودہ نصاب میں شامل کرے گی اور منتخب پیشہ ورانہ تربیتی اداروں میں پائلٹ پروگرام شروع کرے گی۔ عہدیدار نے کہا کہ ’’یہ منصوبہ صرف بنیادی تربیت کار تیار کرنے تک محدود نہیں بلکہ چینی شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر پاکستان کی نئی توانائی والی گاڑیوں کی صنعت کی ترقی کے لئے مضبوط بنیاد رکھنے سے بھی متعلق ہے۔پنجاب میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی چکوال کے اساتذہ کا ایک گروپ بھی خصوصی تربیت کے لئے ہونان جائے گا۔ پنجاب میں 13 سالہ پیشہ ورانہ تدریسی تجربہ رکھنے والے لیکچرار عثمان حسن نے درخواست کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میں برقی گاڑیوں سے متعلق علم اور مہارتیں کلاس روم میں واپس لانا چاہتا ہوں تاکہ میرے طلبہ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔دوطرفہ صنعتی تعاون میں تیزی کے ساتھ 21ویں پاکستان انٹرنیشنل آٹو شو کا انعقاد 18 سے 20 ستمبر 2026 تک لاہور انٹرنیشنل ایکسپو سنٹر میں ہوگا۔ بی وائی ڈی، ہیول اور جے ٹور جیسے چینی نئی توانائی والی گاڑیوں کے برانڈز نمائش میں شرکت کریں گے اور ہائبرڈ اور مکمل برقی ماڈلز کے ساتھ معاون صنعتی ایکو سسٹم کے حل پیش کریں گے۔مکمل گاڑیوں کی مصنوعات مقامی مارکیٹ میں مسلسل داخل ہونے کے ساتھ مقامی سطح پر ہنرمند افرادی قوت کا ذخیرہ تیار کرنے کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہونان آٹو موٹو انجینئرنگ ووکیشنل یونیورسٹی کے صدر ین وان جیان نے کہا کہ اگلے مرحلے میں چین بیرون ملک ورکشاپس کے آپریشنز، اساتذہ اور طلبہ کے دوطرفہ تبادلوں اور دوروں کو مزید آگے بڑھائے گا تاکہ چین پاکستان نئی توانائی والی گاڑیوں سے متعلق ہنرمند افرادی قوت کی تربیت میں مزید گہرا اور ٹھوس تعاون فروغ دیا جا سکے۔

Comments (0)
Add Comment