سی پیک منصوبہ پاکستانی خواتین کو رکاوٹیں توڑنے اور نئی پیشہ ورانہ بلندیوں تک پہنچنے میں مدد کر رہا ہے

اسلام آباد (شِنہوا) نیوی بلیو رنگ کی سمارٹ وردی پہنے اور ایک بڑے ٹرین انجن کو چلانے کے لئے مکمل طور پر تیار 26 سالہ ندا صالح اورنج لائن میٹرو ٹرین (او ایل ایم ٹی) کے ڈرائیونگ کیبن میں سوار ہوتے ہوئے اپنی خوشی پر قابو نہ رکھ سکیں۔
اورنج لائن میٹرو ٹرین پاکستان کے مشرقی شہر لاہور میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم ہونے والا ملک کا پہلا جدید ریل ٹرانزٹ نظام ہے، جسے چائنہ ریلوے گروپ کارپوریشن اور چائنہ نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن نے مشترکہ طور پر تعمیر کیا ہے۔
ندا نے کہا کہ ’’میں سوچا کرتی تھی کہ مجھے اپنی پسند کے شعبے کا انتخاب کرنے، کام کی جگہ پر اپنی صلاحیت ثابت کرنے اور صنفی امتیاز سے جڑی روایتی سوچ کو چیلنج کرنے کا موقع کیوں نہیں مل سکتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ’’چند سال بعد آج میں پاکستان کی پہلی خاتون میٹرو ڈرائیور کی حیثیت سے خوشی سے کام کر رہی ہوں۔‘‘
ندا نے منصوبے میں ٹرانسپورٹ انجینئر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی، تاہم بعد ازاں چینی انجینئروں کی رہنمائی میں ٹرین آپریٹر کے طور پر زیادہ ذمہ داری والا کردار سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابتدا میں میرے خاندان کو تشویش تھی، لیکن دوسری خواتین کے لئے راستہ ہموار کرنے کے میرے جذبے کو دیکھ کر میرے والدین مطمئن ہوگئے۔ میرا بنیادی مقصد سماجی تبدیلی لانا اور پاکستانی خواتین کی فلاح و بہبود بہتر بنانا ہے، جبکہ دوسری خواتین کے لئے امید، حوصلے اور تحریک کا ذریعہ بننا بھی چاہتی ہوں۔‘‘
ندا کا کہنا تھا کہ ملک کی پہلی خاتون میٹرو آپریٹر بننے کا سفر چینی ساتھیوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھا، جنہوں نے انہیں تربیت دینے اور عالمی معیار کا تکنیکی علم اور معیاری طریقہ کار سکھانے کے لئے بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ’’چینی منصوبوں کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کا یہ اقدام پاکستان اور چین کی عظیم دوستی کی علامت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبے نہ صرف مقامی خواتین کو بااختیار بنا رہے ہیں اور انہیں آگے بڑھنے میں مدد دے رہے ہیں بلکہ ملک کے معاشی منظرنامے کو تبدیل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ندا کی شاندار کامیابی کے بعد خواتین کی شمولیت بڑھانے اور پاکستان میں ان کی پیشہ ورانہ خودمختاری کو فروغ دینے کے لئے مزید 10 سے 15 خواتین کے ایک گروپ کو تربیت دی گئی۔
ایک اور خاتون ٹرین آپریٹر حجاب عزیز نے کہا کہ ’’میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ٹرین ڈرائیور بنوں گی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ابتدا میں مجھے کچھ گھبراہٹ ہوئی، لیکن اپنے سینئرز، چینی اور پاکستانی ساتھیوں کا شکریہ جنہوں نے ہمیں ٹرین چلانے اور مسافروں سے نمٹنے کی باریکیاں سکھائیں۔‘‘
25 سالہ حجاب عزیز کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ اس شعبے میں پیش قدمی کرنے والی خواتین میں شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’تربیت کے دوران میں نے نظریاتی اور عملی کورسز مکمل کئے، جن میں حفاظتی ضوابط، مسافروں کی حفاظت، خرابی سے نمٹنے اور ٹرین آپریشنز کا مطالعہ کیا تاکہ ہم سند یافتہ ٹرین آپریٹرز بن سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے دباؤ میں کام کرنا بھی سیکھا کیونکہ ہم بڑی اور بھاری ٹرینیں چلا رہے ہوتے ہیں۔ پٹڑی پر عملی طور پر ٹرین چلانے سے پہلے ہم نے کئی امتحانات اور عملی مشقیں مکمل کیں۔ یہ منصوبہ خواتین کو ایسے شعبوں میں مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔‘‘
حجاب نے کہا کہ پاکستان کے عوامی نقل و حمل کے نظام کا حصہ ہونے پر جو لوگوں کو ان کے کام کے مقامات، تعلیمی اداروں اور روزمرہ کی سرگرمیوں تک پہنچاتا ہے ان کے لئے کامیابی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو شہری نقل و حرکت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور یہ معاشی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی مساوات کے لئے ضروری خدمات فراہم کرتا ہے۔
او ایل ایم ٹی کے ڈپٹی جنرل منیجر قمر محبوب نے کہا کہ لاہور کی اورنج لائن نے معاشرے میں خواتین کے لئے پیشہ ورانہ طور پر آگے بڑھنے کے لئے کام کا ایک نیا میدان پیدا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جدید نظام صنفی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتے اور ٹیکنالوجی صنفی امتیاز سے بالاتر ہے، بشرطیکہ اس پر عبور حاصل کیا جائے۔ اورنج لائن منصوبہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے پرعزم ہے اور آنے والے دنوں میں دیکھ بھال اور آپریشنز سمیت مختلف شعبوں میں خواتین کے لئے مزید مواقع فراہم کئے جائیں گے۔‘‘
او ایل ایم ٹی منصوبے کے آپریشنز اور دیکھ بھال کے قائم مقام ڈائریکٹر وانگ ژی وین نے کہا کہ چین سے تعلق رکھنے والے انتہائی تجربہ کار سب وے ڈرائیورز چینی معیارات کے مطابق پاکستانی خواتین ٹرین آپریٹرز کو تربیت دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’’نظریاتی تعلیم سے لے کر مین لائنز پر ہنگامی حالات سے نمٹنے تک خواتین ٹرین آپریٹرز نے کافی مہارت حاصل کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چینی نگران مستقبل میں مزید خواتین ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ انجینئرز کو بھی تربیت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ دیکھ بھال و مرمت اور خرابیوں سے نمٹنے کے امور انجام دے سکیں۔
صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان کے مطابق او ایل ایم ٹی روزانہ 2 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد کو کم وقت میں سفر کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جس سے لوگوں، بالخصوص ان افراد کی زندگیوں پر نمایاں اثر پڑا ہے جو کثرت سے سفر کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ لاہور میں کم لاگت والی سفری سہولت کی زیادہ طلب کے پیش نظر اضافی ٹرین سیٹس کے ذریعے سروس کی یومیہ گنجائش بڑھا کر 5 لاکھ افراد تک کی جا رہی ہے۔
سی پیک کے تحت بہت سے منصوبے اور پاکستانی و چینی کمپنیوں کے درمیان مشترکہ منصوبے پاکستان کے لئے سماجی و اقتصادی فوائد لا رہے ہیں، مقامی لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کر رہے ہیں اور بہت سے منصوبے پاکستانی خواتین کے لئے بھی فیصلہ کن تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔
خان نے کہا کہ’’اورنج لائن اس کی ایک مثال ہے، جہاں سازگار ماحول پیدا کرکے خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، انہیں عزت، قدر اور تعاون کا احساس دلایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمت سے اطمینان اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’خواتین کو پیشہ ورانہ طور پر بااختیار بنانا اور کام کی جگہوں پر انہیں آمدورفت کا مناسب ذریعہ فراہم کرنا ملک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور چینی عوام اس سلسلے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔‘‘
او ایل ایم ٹی کے رولنگ سٹاک ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والی الیکٹریکل انجینئر سعدیہ احمد نے کہا کہ ملازمت حاصل کرنے کے بعد سے انہوں نے پیشہ ورانہ مہارتوں میں نمایاں ترقی کی اور جدید ترین ٹیکنالوجی سیکھی، جبکہ انہیں خوشگوار اور معاون کام کے ماحول سے بھی فائدہ ہوا۔
احمد نے پرجوش انداز میں کہا کہ ’’جب میں نے تقریباً دو سال قبل اس کمپنی میں شمولیت اختیار کی تو مجھے معلوم تھا کہ میں جس چیز کی تلاش میں تھی، یہ بالکل وہی ہے،اپنا کیریئر شروع کرنے اور بہتر مستقبل کی جانب بڑھنے کا موقع، تاکہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے ایک کامیاب اور باوقار زندگی تعمیر کر سکوں۔‘‘

سی پیک
Comments (0)
Add Comment