پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی ہیومن رائٹس ونگ کے صدر ڈاکٹر یاسر منیر لغاری نے کہا ہے کہ پارٹی رہنما چوہدری سالک حسین کا یہ موقف درست ہے کہ کروڑوں کی آبادی والے صوبوں کا انتظام ایک فرد کے لیے مؤثر طور پر چلانا ممکن نہیں۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں کی تعداد بڑھانے سے عوام کو یکساں توجہ، فوری انتظامی سہولتیں اور انسانی حقوق کے بہتر تحفظ کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر یاسر منیر لغاری نے وضاحت کی کہ بڑے صوبوں میں اکثر عوامی مسائل نظرانداز ہو جاتے ہیں، جس سے بنیادی انسانی حقوق — تعلیم، صحت، انصاف اور روزگار — متاثر ہوتے ہیں۔ صوبوں کی تقسیم اور نئے انتظامی ڈھانچے کے قیام سے:عوامی مسائل کا فوری حل ممکن ہوگا۔ صحت و تعلیم کی سہولتوں تک رسائی بہتر ہوگی۔انصاف کی فراہمی تیز اور مؤثر بنے گی۔انتظامی شفافیت بڑھے گی، جس سے انسانی حقوق کے تحفظ کو تقویت ملے گی۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) کا ہیومن رائٹس ونگ اس بات پر زور دیتا ہے کہ صوبوں کی تعداد بڑھانے کا مقصد سیاسی تقسیم نہیں بلکہ عوامی خدمت اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام سے عوامی نمائندوں کو مقامی سطح پر زیادہ ذمہ داری اور اختیار ملے گا، جس سے عوامی خدمت کا معیار بلند ہوگا۔
اس موقع پر انجینئر مطیع اللہ خان، مرکزی ڈپٹی میڈیا و انفارمیشن سیکرٹری ہیومن رائٹس ونگ نے کہا کہ یہ مؤقف عوامی خدمت کے مشن کو مزید تقویت دینے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو عملی شکل دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔