اسلام آباد: ساؤتھ ایئر کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نشات فاطمہ نے کہا ہے کہ فضائی رابطے سی پیک فیز ٹو کے تحت پاکستان میں عوام، کاروباری برادری، سرمایہ کاروں اور سیاحتی مقامات کو باہم مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ڈپلومیٹک فوکس کے زیر اہتمام پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر منعقدہ سیمینار اور عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو سرمایہ کاری، تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں مزید تعاون کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
نشات فاطمہ نے کہا کہ ساؤتھ ایئر کا مقصد پاکستان کے ان شہروں اور علاقوں کو فضائی رابطوں سے جوڑنا ہے جہاں سہولیات محدود ہیں، تاکہ فضائی سفر کو مزید قابل رسائی، قابل اعتماد اور سستا بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سڑک، ریل، سمندری اور فضائی رابطوں پر مشتمل مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پاکستان کی معاشی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے۔ بہتر فضائی روابط پاکستان اور چین کے درمیان سیاحت، کاروباری سفر، سرمایہ کاری اور تعلیمی روابط کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔
دریں اثناء فالکن آئلز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سرحان احمد خان نے کہا کہ ان کی کمپنی سی پیک فریم ورک کے تحت دھابیجی، سندھ میں 3.5 ارب ڈالر کی لاگت سے ریفائنری اور اسٹوریج کمپلیکس کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ منصوبے میں یومیہ ایک لاکھ بیرل تیل صاف کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ریفائنری اور تقریباً 40 لاکھ میٹرک ٹن اسٹوریج کی گنجائش شامل ہوگی۔
سرحان احمد خان نے کہا کہ فالکن آئلز منصوبے کے لیے چائنا انرجی انجینئرنگ کارپوریشن اور دیگر چینی انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری اداروں کے ساتھ تعاون کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو توانائی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی میں پاک چین تعاون کو مزید وسعت دینے کا اہم موقع ہے۔
انہوں نے چینی حکومت، سفارتخانے اور کاروباری شراکت داروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجوزہ منصوبہ توانائی کے تحفظ، روزگار کے مواقع اور معاشی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں ڈپلومیٹک فوکس کے چیف ایگزیکٹو و ایڈیٹر انچیف میاں فضل الٰہی نے کہا کہ میڈیا پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کے فروغ، باہمی مفاہمت اور عوامی روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپلومیٹک فوکس کئی برسوں سے پاک چین تعلقات، سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو اجاگر کرنے کے ساتھ سفارت کاروں، حکومتی عہدیداروں، کاروباری رہنماؤں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
میاں فضل الٰہی نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو میں توانائی، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں نئے مواقع موجود ہیں، جن سے استفادے کے لیے نجی شعبے، اکیڈمیا، نوجوانوں اور میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے تقریب میں شرکت پر چینی سفارتخانے، سفارتی مشنز، مقررین، شراکت داروں اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سیمینار پاک چین تعلقات کے مستقبل اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پر تعمیری مکالمے میں معاون ثابت ہوگا۔