بیجنگ : امریکہ نے ” روس اور ایران پر پابندیوں کے گراہم ایکٹ 2026 دستخط سے اسے قانون کا درجہ دے دیا۔ قانون کے تحت روس سے تیل یا قدرتی گیس درآمد کرنے والے تیسرے ممالک پر زیادہ سے زیادہ 100 فیصد نام نہاد “ثانوی محصولات” عائد کیے جا سکتے ہیں۔چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا کہ چین ہمیشہ ایسی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جنہیں اقوام متحدہ کی اجازت یا بین الاقوامی قانون کی بنیاد حاصل نہ ہو۔ چین ہمیشہ مساوی اور باہمی مفاد کی بنیاد پر دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ معمول کی اقتصادی و تجارتی سرگرمیاں انجام دیتا رہا ہے۔ یہ تعاون کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے کسی تیسرے فریق کی مداخلت یا دباؤ سے متاثر ہونا چاہیے۔ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ چین امریکہ کے آئندہ اقدامات پر قریبی نظر رکھے گا اور تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، تاکہ چین کی قومی خودمختاری، ترقیاتی مفادات اور چینی کاروباری اداروں کے جائز و قانونی حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کیا جا سکے۔ترجمان نے امید ظاہر کی کہ امریکہ چین کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے ذریعے دوطرفہ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے اور عالمی تجارتی نظام کے ساتھ ساتھ عالمی سپلائی اور صنعتی چینز کے تحفظ اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔