اسلام آباد (نیوز ڈیسک) واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی ایئرلائنز کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق 23 ستمبر سے دنیا بھر میں ایرانی فضائی کمپنیوں کو مختلف ایوی ایشن سہولیات کی فراہمی روک دی جائے گی۔اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایرانی طیاروں کو کسی ایئرپورٹ پر اترنے کی صورت میں ایندھن یا دیگر لینڈنگ سروسز فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ ان ایئرلائنز کے ٹکٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فضائی کمپنیوں کو سہولیات فراہم کرنے والے ادارے امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ماہ ایرانی ایوی ایشن سیکٹر کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے 27 ایرانی ایئرلائنز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ تازہ اقدامات کا مقصد ایران کی عالمی مالیاتی اور اقتصادی سرگرمیوں تک رسائی محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہیں اور مستقبل قریب میں بڑی پیش رفت ہوسکتی ہے۔فاکس نیوز سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایران سے متعلق مختلف ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق زیر غور آپشنز میں ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی، مزید اقتصادی دباؤ کے ذریعے معیشت کو شدید نقصان پہنچانا اور تہران کے ساتھ کسی نئے معاہدے تک پہنچنا شامل ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ اصل معاملہ صرف یہ نہیں کہ کون سے آپشنز دستیاب ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ان پر کب عمل کیا جائے۔
انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائے، جبکہ ساتھ ہی سفارتی راستے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی پابندیوں میں اضافے اور ایرانی ایئرلائنز کو عالمی سطح پر خدمات کی فراہمی روکنے کے اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ مزید نمایاں کردیا ہے۔
پی این پی