عالمی خدمات کی صنعت کی  معیشت میں اہمیت

 

اعتصام الحق

دنیا کی معیشت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ایک خاموش مگر گہری تبدیلی رونما ہوئی ہے: تجارت کا مرکز اب صرف بحری جہازوں میں بھرے سامان تک محدود نہیں رہا بلکہ سافٹ ویئر، مالیاتی خدمات، سیاحت، نقل و حمل اور فری لانسنگ جیسے شعبے عالمی تجارت کے فروغ کا اہم ترین انجن بن چکے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں عالمی خدمات کی تجارت کے حجم میں نو فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جو زیادہ تر سامان سے جڑی خدمات کی برآمدات کی بدولت ممکن ہوا۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگرچہ عالمی اشیا کی تجارت محصولاتی کشیدگی اور پالیسی غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار رہی، تاہم ڈیجیٹل طریقے سے فراہم کی جانے والی خدمات، جیسے کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر اور آؤٹ سورسنگ، مستحکم کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہیں۔

 

اس شعبے میں عالمی قیادت اب بھی چند ترقی یافتہ معیشتوں کے پاس مرکوز ہے۔ چین، جو کبھی بنیادی طور پر اشیا کی تیاری اور برآمد پر انحصار کرتا تھا، اب خدمات کی برآمدات میں بھی دنیا کے پانچویں نمبر پر آ چکا ہے، اور چینی وزارت تجارت کے مطابق 2025 کی پہلی ششماہی میں ملک کی مجموعی خدمات کی تجارت کی مالیت میں آٹھ فیصد سالانہ اضافہ ہوا اور یہ تین اعشاریہ نو کھرب یوان یعنی تقریباً پانچ سو اڑتالیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

 

اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے، اگرچہ یہ ابھی چھوٹے پیمانے پر ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک کی خدمات کی برآمدات مالی سال 2025 میں نو اعشاریہ چوراسی فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ اعشاریہ انتالیس ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن، کمپیوٹر اور انفارمیشن خدمات کا حصہ سب سے نمایاں رہا، جو اٹھارہ اعشاریہ اٹھارہ فیصد بڑھ کر تین اعشاریہ اکیاسی ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں بھی یہ رفتار برقرار رہی، جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کا حصہ مجموعی خدماتی برآمدات میں سینتالیس فیصد کے قریب پہنچا ۔ حکومت پاکستان نے آئندہ پانچ برسوں میں آئی ٹی برآمدات کو پندرہ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، اور پاکستان دنیا میں فری لانسرز کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر آ چکا ہے، جہاں سے آئی ٹی مصنوعات ایک سو ستر ممالک کو برآمد کی جا رہی ہیں۔

 

اسی عالمی خدماتی تجارت کے فروغ کے تناظر میں چین کا سالانہ منعقد ہونے والا “چائنا انٹرنیشنل فئیر فار ٹریڈ ان سروسز” ( سفٹس) دنیا کا سب سے بڑا اور جامع خدماتی میلہ تصور کیا جاتا ہے۔ بیجنگ میں ہر سال منعقد ہونے والا یہ میلہ چینی وزارت تجارت اور بیجنگ میونسپل حکومت کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے اور اسے عالمی تجارتی تنظیم، اقوام متحدہ  کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی اور ادارہ برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ میلہ چین اور دنیا دونوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے۔ ایک طرف یہ چینی اداروں کو مصنوعی ذہانت، مالیاتی ٹیکنالوجی اور سبز ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں اپنی اختراعات دنیا کے سامنے پیش کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری و شراکت داری حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے، تو دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کی کمپنیوں کو دنیا کی دوسری بڑی معیشت تک باآسانی رسائی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان بھی 2022 سے مسلسل اس میلے میں اپنا قومی پیویلین قائم کر رہا ہے، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، مالیات اور ہوابازی کے شعبوں کی نمائندہ کمپنیاں شریک ہوتی ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق، ستمبر 2026 میں منعقدہ میلے میں پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے بتایا کہ ایمبیسی اور اس کے چار قونصل خانوں نے مشترکہ طور پر چھ بڑی کاروباری سرمایہ کاری کانفرنسیں منعقد کیں، جن کے نتیجے میں بائیس ارب ڈالر مالیت کے چھ سو پچاس سے زائد معاہدوں کا ارادہ ظاہر کیا گیا، جن میں سے تیس فیصد عملی معاہدوں، فیکٹریوں یا پلانٹس کی صورت میں تقریباً سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری زمین پر حقیقت بن چکی ہے۔

 

مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خدمات کی صنعت محض ایک ضمنی شعبہ نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی عالمی معیشت کا مرکزی محور بن چکی ہے۔ چین کے لیے “سفٹس ” جیسے پلیٹ فارم اپنی معیشت کو مزید کھولنے اور دنیا کے ساتھ گہرے تجارتی روابط استوار کرنے کا ذریعہ ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہی میلہ اپنی نوجوان آبادی کی ڈیجیٹل مہارت کو عالمی منڈی سے جوڑنے کا ایک قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment