بین الاقوامی اسٹریمرز اور انفلوئنسرز کا سان شنگ ڈوئی میوزیم کا دورہ

بیجنگ : چائنا ٹریول : رومنگ چائنا – 2026 انٹرنیشنل اسٹریمرز اینڈ انفلوئنسرز ڈیکوڈنگ وائبرینٹ سی چھوان ” سرگرمی میں شریک بین الاقوامی اسٹریمرز اور انفلوئنسرز نے چین کے صوبہ سی چھوان کے شہر گوانگ ہان میں واقع سان شنگ ڈوئی میوزیم کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے قدیم زمانے میں سی چھوان میں واقع “شو” ریاست کی تہذیب کے منفرد حسن کو قریب سے محسوس کیا۔12 مربع کلو میٹر پر واقع سان شنگ ڈوئی سائٹ گوانگ ہان شہر میں واقع ہے اور اس کی تاریخ 2900 سے 4500 سال قبل تک پھیلی ہوئی ہے ۔ 1927 میں یان خاندان کی رہائش گاہ سے قیمتی پتھر اور دیگر نوادرات کی دریافت کے بعد 1934 میں یہاں پہلی بار آثار قدیمہ کے لیے باقاعدہ کھدائی کی گئی۔ 1986 میں یہاں سے کانسی کا درخت، کانسی کا انسانی مجسمہ ، سونے کے چہرے والا مجسمہ، کانسی کی ابھری ہوئی آنکھوں والے ماسک سمیت 4000 سے زائد نوادرات دریافت ہوئے۔ بعد ازاں 2019 کے بعد کی کھدائی میں مزید 17,000 سے زائد نوادرات برآمد ہوئے ۔ سان شنگ ڈوئی کا مقام اب تک دریائے یانگسی کے کنارے دریافت ہونے والا شانگ خاندان کے دور کی قدیم سلطنت “شو” کا سب سے بڑا آثار قدیمہ کا مقام ہے اور یہ چینی تہذیب کے متنوع اور متحد آغاز و ارتقاء کا اہم ثبوت بھی ہے۔
سان شنگ ڈوئی میوزیم کی نئی عمارت جولائی 2023 میں مکمل ہوئی اور اسے عوام کے لیے کھولا گیا ۔اس میوزیم کا نمائشی رقبہ 22,000 مربع میٹر ہے اور اس میں 1500 سے زائد قیمتی نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں ۔
بین الاقوامی اسٹریمرز اور انفلوئنسرز نے میوزیم میں موجود ان نوادرات کا مشاہدہ کیا ۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے جیلن دوسری بار سان شنگ ڈوئی آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بار یہاں آناان کے لیے سیکھنے کا ایک نیا موقع ہوتا ہے۔
ترکمانستان سے تعلق رکھنے والی آئلا پہلی بار سان شنگ ڈوئی آئی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نوادرات انتہائی منفرد اور پراسرار ہیں، جو چینی تہذیب کے ایک دلچسپ پہلو کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار ان نوادرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ا ن کے لیے حیران کن تجربہ تھا ۔
1927 میں ایک اتفاقی دریافت سے لے کر اب تک، سان شنگ ڈوئی میں آثار قدیمہ کی کھدائی کا سفر تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ ہزاروں سال تک زیر زمین کانسی اور سونے کے ان نوادرات کی کہانی اب بین الاقوامی اسٹریمرز اور انفلوئنسرز کے کیمروں اور زبان سے دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ رہی ہے ۔

سان شنگ ڈوئی میوزیم
Comments (0)
Add Comment