بیجنگ :، چینی وزارت دفاع نے یومیہ پریس کانفرنس کی ۔ ترجمان جیانگ بن نے کہا کہ “تائیوان کی علیحدگی” کی سازش کے لیے ڈی پی پی حکام نے اس سانحے کو نظرانداز کرتے ہوئے، جس میں فلپائن کے کوسٹ گارڈ کی فائرنگ سے تائیوان کے ماہی گیر ہلاک ہوئے تھے، جان بوجھ کر فلپائن کے ساتھ قربت اور روابط بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ ڈی پی پی انتظامیہ نے جنگی بحری جہازوں کی امداد کو نام نہاد سرکاری روابط” کو وسعت دینے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، اور قومی وقار اور مفادات کو فروخت کیا، جسے آبنائے تائیوان کے دونوں جانب کے عوام نے مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فلپائن پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک چین کے اصول کی پاسداری کرے، تائیوان کے ساتھ کسی بھی قسم کے سرکاری تبادلے یا فوجی رابطوں سے گریز کرے اور “تائیوان کی علیحدگی” کی کوشش کرنے والی قوتوں کو غلط اشارے دینا بند کرے۔
ترجمان جیانگ بن نے مزید کہا کہ آسیان وزرائے دفاع کی میٹنگ مختلف ممالک کے لیے باہمی اعتماد اور تعاون کو بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ میری ٹائم سیکیورٹی ایکسپرٹس گروپ کے شریک چیئرمین کے طور پر اپنے کردار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، فلپائن نے اتفاق رائے کے اصول کو نظر انداز کیا اور متعلقہ ممالک کو چین کے ہوانگ یان جزیرے کے قریب فضائی حدود اور پانیوں میں مشترکہ فوجی مشقیں کرنے پر مجبور کیا۔ فلپائن نے سکیورٹی تعاون کے نام پر دراندازی اور اشتعال انگیزی کی، جبکہ تشہیر اور پراپیگنڈے کے ذریعے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اس اقدام سے علاقائی امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچا ہے اور یہ “امن کے مشترکہ تحفظ اور ترقی کے فروغ” کے علاقائی اتفاقِ رائے کے بالکل منافی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہوانگ یان جزیرہ چین کی قدیم اور موروثی سرزمین ہے، چین کو ہوانگ یان جزیرے اور اس کے ملحقہ سمندری علاقوں پر ناقابلِ تردید اقتدار اعلی، خودمختاری کے حقوق اور دائرہ اختیار حاصل ہیں۔ ہم فلپائن پر زور دیتے ہیں کہ اس نامناسب عمل کو بند کرے، دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی کی کوششوں سے باز آئے، اور بطور سربراہ ملک اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، تاکہ علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینے اور بحیرہ جنوبی چین میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں تعمیری کردار ادا کیا جا سکے۔