چینی صدر کی ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو چین آنے کی دعوت
چین اور امریکہ دونوں عظیم ممالک ہیں، چینی صدر
دونوں مما لک انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں، شی کا خطاب
واشنگٹن ()
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک پروقار تقریب منعقد کی، جس میں امریکہ کے سرکاری دورے پر آئے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔اس موقع پر صدر شی جن پھنگ نے تقریب سے اہم خطاب بھی کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔جمعرات کے روز
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ امریکہ کے سرکاری دورے پر آ کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے 140 کروڑ سے زائد چینی عوام کی جانب سے امریکی عوام کو خلوصِ دل سے سلام پیش کیا اور امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں عظیم ممالک ہیں اور دونوں ممالک کے عوام بھی عظیم عوام ہیں۔ صدر ٹرمپ کی دعوت پر ان کا یہ دورہ دوستی کو آگے بڑھانے، تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے ہے۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ، دو بڑی طاقتوں کے طور پر، انسانی ترقی کو آگے بڑھانے کی تاریخی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں سال چین کے دورے کے دوران دونوں صدور نے متفقہ طور پر چین-امریکہ تعمیری تزویراتی استحکام پر مبنی تعلقات کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا، جسے دونوں ممالک کے عوام اور عالمی برادری کی جانب سے وسیع پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین اور امریکہ کے تعلقات کو مستحکم اور پائیدار انداز میں آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ اس موقع پر صدر شی جن پھنگ نے تجاویز بھی پیش کیں۔
پہلی، رابطوں کو فروغ دینا چاہیے۔ چین اور امریکہ کے حالات مختلف ہیں، لیکن کھلے دل کے ساتھ گہرے اور مسلسل مکالمے کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جا سکتا ہے، اختلافات کو کم کیا جا سکتا ہے، مشترکہ مفادات کو اجاگر کیا جا سکتا ہے اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صدور ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، باہمی تعلقات اور قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے خارجہ، اقتصادی، مالیاتی، قانون نافذ کرنے والے اور عوامی و ثقافتی امور سے متعلق اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جبکہ دونوں ممالک کے قانون ساز اداروں کے درمیان تبادلوں کی بھی حمایت کی جانی چاہیے۔
دوسری، مخلصانہ تعاون کرنا چاہیے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے مفادات گہرائی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ یہ درست ہے کہ چین اور امریکہ کا تعاون دنیا کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا، لیکن دونوں ممالک کے تعاون کے بغیر دنیا کے بہت سے مسائل کا حل مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے دروازے کھلے ہیں اور امریکی کمپنیوں کو چین میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ چین امید کرتا ہے کہ امریکی فریق چینی اداروں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرے گا، تاکہ تعاون کی فہرست طویل اور مسائل کی فہرست مختصر ہو۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی طاقتیں ہیں اور دونوں ممالک کے پاس اے آئی کو بہتر طور پر ترقی دینے اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کی صلاحیت اور ذمہ داری ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت انسان کے کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو۔ چین امریکہ کے ساتھ منشیات کی روک تھام اور قانون کے نفاذ سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ دونوں ممالک براہِ راست پروازوں کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے عوامی اور تجارتی تبادلوں کو مزید سہولت ملے گی۔
تیسری ، پرامن بقائے باہمی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان مسابقت تعمیری اور حدود کے اندر ہونی چاہیے۔ یہ ایک دوسرے سے بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش ہونی چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو شکست دینے کی لڑائی۔
انہوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کو تصادم اور محاذ آرائی سے بچنے کے لیے واضح حد قائم کرنی چاہیے اور دونوں بڑی طاقتوں کے لیے ایسا راستہ تلاش کرنا ممکن ہے جس پر وہ اس دنیا میں مناسب انداز میں ساتھ رہ سکیں۔
شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان باقاعدہ مکالمہ جاری رہنا چاہیے اور بحران کے وقت رابطوں اور خطرات کی روک تھام کے نظام کو مزید بہتر بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تھوسی ڈائیڈز ٹریپ‘‘ سے بچا جا سکتا ہے۔
صدر شی جن پھنگ نے اعلان کیا کہ چین آئندہ پانچ برسوں کے دوران ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تبادلے اور تعلیم کے لیے چین آنے کی دعوت دے گا۔
انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ چند ہی دنوں میں پانڈا ’’پھنگ پھنگ‘‘ اور ’’فو شوانگ‘‘ اٹلانٹا چڑیا گھر میں آباد ہوں گے اور امریکی عوام سے ملیں گے۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ کا حصول اور “امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانا” ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔ انہوں نے چینی اور امریکی عوام کے درمیان دوستی کو مسلسل آگے بڑھانے اور ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دیا۔