ایران میں گرلز اسکول پر امریکی حملہ اے آئی کی مس انفارمیشن کا شاخسانہ تھا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف

تہران(پی این پی)ایران کے شہر میناب میں فروری کے آخری روز ایک اسکول پر امریکی میزائل حملے کے حوالے سے نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غلط اور پرانے انٹیلی جنس ڈیٹا،

مصنوعی ذہانت پر حد سے زیادہ انحصار اور انسانی نگرانی میں کمی نے ہلاکت خیز غلطی میں کردار ادا کیا۔بلومبرگ کی تحقیقات کے مطابق 28فروری کو امریکی حملے میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 150 سے زائد افراد قتل ہوئے جن میں کم از کم 123 بچے شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق اسکول کو اس لیے امریکی اہداف کی فہرست میں شامل کیا گیا کیونکہ جس جگہ یہ قائم تھا اسے برسوں سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی تنصیب کے طور پر درج کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے واضح تھا کہ فوجی تنصیب اور اسکول کے درمیان دیواریں اور داخلی راستے برسوں پہلے الگ کیے جاچکے تھے جبکہ 2019 میں بعض امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے بھی مقام میں تبدیلیوں کی نشاندہی کی تھی تاہم اس مقام سے متعلق یہ تازہ معلومات امریکا کے مرکزی ہدف سازی کے ڈیٹا بیس میں محفوظ نہیں کی گئی تھیں اور ڈیٹا میں یہ اسکول پاسداران انقلاب کی تنصیب کے طور پر ظاہر ہو رہا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے بعض اہلکاروں نے میون اسمارٹ سسٹم نامی مصنوعی ذہانت کے نظام پر زیادہ انحصار کیا، جو مختلف ڈیٹا ذرائع کو یکجا کرکے فوجی اہداف کی نشاندہی میں مدد دیتا ہے۔علاوہ ازیں گرلز پرائمری اسکول پر حملے سے قبل کسی شہری نقصانات میں کمی کے ماہر نے بھی اس مقام کا جائزہ نہیں لیا تھا۔ یہ بھی ایسی فاش غلطی تھی جس نے 150 سے زائد طلبا و اساتذہ کی جان لی۔اقوام متحدہ کی ایک حالیہ تحقیق میں بھی کہا گیا تھا کہ اس حملے کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ یہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے اور امریکا مطلوبہ حد تک اس بات کی تصدیق کرنے میں ناکام رہا کہ اسکول فوجی ہدف تھا۔واضح رہے کہ امریکی حکومت نے تاحال حملے کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ابھی واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

پی این پی